کانگریس رہنما سندیپ دیکشت نے قومی ترانے سے متعلق مبینہ طور پر گمراہ کن سوشل میڈیا پوسٹس کرنے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آئی سیل کے سربراہ امت مالویہ اور سینئر صحافی اشوک شریواستو کو باضابطہ قانونی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ یہ تنازع 13 اگست 2026 کو منعقدہ 'رچناتمک کانگریس' کے قومی اجلاس کے دوران پیش آنے والے ایک واقعے سے جڑا ہوا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء اور دعوے سامنے آئے تھے۔
قانونی نوٹس کی بنیاد وہ ڈیجیٹل پوسٹس ہیں جو سوشل میڈیا بالخصوص ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کی گئیں۔ سندیپ دیکشت کے وکلاء کا کہنا ہے کہ امت مالویہ اور اشوک شریواستو کی جانب سے کی جانے والی پوسٹس میں 13 اگست 2026 کے واقعے کو مسخ کر کے پیش کیا گیا اور اس کا مقصد کانگریس پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔ نوٹس میں دونوں شخصیات سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی پوسٹس ہٹائیں اور معافی مانگیں بصورت دیگر مزید عدالتی کارروائی کی جائے گی۔
13 اگست کے اجلاس کا پس منظر
یہ تنازع 'رچناتمک کانگریس' کے قومی اجلاس سے شروع ہوا جو 13 اگست 2026 کو منعقد ہوا۔ اس تقریب میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔ اجلاس کے دوران قومی ترانے کی ادائیگی سے متعلق کچھ ویڈیوز اور دعوے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے، جنہیں مخالف سیاسی کیمپوں نے تنقید کا نشانہ بنایا۔
سندیپ دیکشت اور ان کے حامیوں نے ان الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد اور سیاسی عداوت پر مبنی قرار دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ وائرل ہونے والی ویڈیوز سیاق و سباق سے ہٹ کر ایڈٹ کی گئی تھیں تاکہ ایک مصنوعی تنازع کھڑا کیا جا سکے۔ قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایسی من گھڑت کہانیاں پھیلانا آزادی اظہار رائے نہیں بلکہ منظم ہتک عزت ہے۔
قانونی کارروائی اور مطالبات
امت مالویہ اور اشوک شریواستو کو بھیجے گئے نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر متنازعہ مواد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ہٹائیں اور تردید شائع کریں۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو سندیپ دیکشت کی جانب سے عدالت میں ہتک عزت کے فوجداری اور دیوانی دعوے دائر کیے جائیں گے۔
آگے کیا ہوگا؟
اس قانونی جنگ کے اگلے مرحلے میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ امت مالویہ اور اشوک شریواستو کا کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔ سیاسی مبصرین کی نگاہیں دونوں شخصیات کے سوشل میڈیا ہینڈلز پر ہیں کہ آیا وہ معافی مانگتے ہیں یا اس قانونی نوٹس کا عدالت میں مقابلہ کرتے ہیں۔ اگر مقررہ وقت میں کوئی جواب نہ دیا گیا تو اس معاملے کے عدالت میں پہنچنے کے قوی امکانات ہیں۔
