پاکستان میں سینی ٹیشن ورکرز ہماری عوامی صحت کے بنیادی ڈھانچے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اس کے باوجود انہیں نظامی استحصال، حفاظتی آلات کی کمی اور ایسی تنخواہوں کا سامنا ہے جو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سامنے بے بس ہیں۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں ہونے والے حالیہ مظاہروں نے ان ورکرز کے وقار اور حقوق کے معاملے کو قومی سطح پر اجاگر کیا ہے۔
سینی ٹیشن ورکرز کے وقار کی جنگ
دہائیوں سے میونسپل ورک فورس گمنامی میں کام کر رہی ہے۔ یہ ورکرز، جنہیں اکثر بغیر کسی حفاظتی سامان کے گٹر صاف کرنے اور شہر کا کچرا اٹھانے جیسے خطرناک کام کرنے پڑتے ہیں، مسلسل صحت کے سنگین مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ معاہدوں (کانٹریکٹ) کے غیر واضح نظام کی وجہ سے بہت سے ورکرز بنیادی طبی سہولیات، پنشن اور ملازمت کے تحفظ سے محروم ہیں۔
- بغیر کسی حفاظتی لباس (PPE) کے زہریلے کیمیکلز اور جراثیموں کا سامنا۔
- تنخواہوں کی بروقت ادائیگی نہ ہونا، جس کی وجہ سے اکثر مہینوں کی تاخیر ہوتی ہے۔
- سماجی تعصب جس کی وجہ سے ان ورکرز کو عوامی مقامات پر باعزت سلوک نہیں ملتا۔
سینی ٹیشن ورکرز کے حقوق کا مطالبہ کیوں اہم ہے؟
ملک میں موجودہ مہنگائی نے سرکاری ملازمین کے نچلے طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ بجلی، ایندھن اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جبکہ بہت سے اضلاع میں سینی ٹیشن ورکرز کی تنخواہیں پرانے پے اسکیلز پر ہی اٹکی ہوئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی حکومتیں 'دیہاڑی دار' یا 'کانٹریکٹ' کے نام پر ورکرز کو مستقل کرنے سے گریز کرتی ہیں تاکہ انہیں ای او بی آئی (EOBI) یا ہیلتھ انشورنس جیسے فوائد نہ دینے پڑیں۔
آگے کیا ہوگا؟
اگر آپ مزدوروں کے حقوق کے حامی ہیں، تو لیبر قوانین پر عمل درآمد کا مطالبہ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ایک ایسی قومی پالیسی تشکیل دے جس میں تمام میونسپل ملازمین کے لیے حفاظتی سامان اور زندہ رہنے کے قابل اجرت کی فراہمی لازمی ہو۔ آئندہ مالی سال کی سہ ماہی میں صوبائی لیبر ڈیپارٹمنٹس کی جانب سے کانٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کے حوالے سے اعلانات پر نظر رکھیں۔
متاثرہ ورکرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے کام کی جگہ پر پیش آنے والی شکایات کو دستاویزی شکل دیں اور مقامی لیبر یونینز کے ساتھ جڑے رہیں۔ جیسے جیسے سینی ٹیشن ورکرز کے حقوق پر بحث شدت اختیار کر رہی ہے، عوامی بیداری اور صوبائی لوکل گورنمنٹ کی وزارتوں پر دباؤ ہی تبدیلی کا واحد راستہ ہے۔
