سفائر فائبرز لمیٹڈ (PSX: SFL) نے باضابطہ طور پر فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (FESCO) کو خریدنے کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے ملک کے بڑے صنعتی گروپوں کے درمیان پاکستان کی سب سے زیادہ منافع بخش بجلی تقسیم کار کمپنی کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مقابلہ سخت ہو گیا ہے۔ سفائر فائبرز نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ فیسکو کی نجکاری کے عمل میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس اقدام کے بعد سفائر فائبرز کا براہ راست مقابلہ نشان گروپ جیسے بڑے کاروباری اداروں سے ہوگا جو پہلے ہی اس ریس میں شامل ہیں۔

اس ممکنہ سودے اور متعلقہ کمپنیوں کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
- ہدف کمپنی: فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (FESCO)
- نیا خریدار: سفائر فائبرز لمیٹڈ (PSX: SFL)
- بڑا حریف: نشان گروپ
- نگران ادارہ: نجکاری کمیشن آف پاکستان (https://privatisation.gov.pk)
- فیسکو کا دائرہ اختیار: فیصل آباد، جھنگ، بھکر، چنیوٹ، اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے 52 لاکھ سے زائد صارفین۔

سفائر فائبرز فیسکو کی خریداری میں کیوں دلچسپی لے رہا ہے؟

فیصل آباد کو پاکستان کی ٹیکسٹائل کا دارالحکومت کہا جاتا ہے۔ سفائر فائبرز جیسے بڑے ٹیکسٹائل اور پاور پلیئر کے لیے فیسکو کو خریدنا ایک اسٹریٹجک فیصلہ ہے تاکہ وہ اپنی توانائی کی سپلائی لائن کو محفوظ بنا سکیں۔ فیسکو کو پاکستان کی بہترین کارکردگی دکھانے والی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (DISCOs) میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ سندھ اور بلوچستان کی کمپنیوں کے مقابلے میں اس کے لائن لاسز (بجلی کا زیاں) بہت کم ہیں اور بلوں کی وصولی کی شرح انتہائی شاندار ہے۔

اپنے صنعتی مرکز میں بجلی کی تقسیم کار کمپنی حاصل کر کے سفائر گروپ گرڈ کی خرابیوں اور مہنگی بجلی کے اثرات سے بچ سکتا ہے۔ یہ خریداری سفائر کو بجلی کے شعبے میں اپنے قدم مزید جمانے کا موقع دے گی، جہاں وہ پہلے ہی ونڈ اور تھرمل پاور پلانٹس چلا رہا ہے۔

دو بڑے صنعتی گروپوں کا ٹکراؤ: سفائر بمقابلہ نشان گروپ

فیسکو کی نجکاری نے پاکستان کے دو سب سے بڑے کاروباری خاندانوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ میاں منشا کی قیادت میں نشان گروپ پہلے ہی بجلی کے شعبے میں مضبوط گرفت رکھتا ہے اور وہ لعل پیر پاور، پاکجن اور نشان پاور جیسے پلانٹس چلا رہا ہے۔ نشان گروپ کافی عرصے سے سرکاری بجلی کمپنیوں کی نجکاری میں گہری دلچسپی ظاہر کر رہا ہے۔

سفائر فائبرز کے اس ریس میں شامل ہونے سے حکومت کو مسابقتی بولیاں ملنے کی امید ہے، جس سے فیسکو کی فروخت کی قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ نجکاری کمیشن کے لیے یہ مقابلہ بہت اہم ہے کیونکہ ماضی میں سرکاری اداروں کی نجکاری کے دوران خریداروں کی عدم دلچسپی کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ دسمبر 2024 تک بولی دہندگان کی پری کوالیفکیشن مکمل کی جائے اور حتمی بولی کا عمل 2025 کے اوائل میں شروع کیا جائے۔

فیسکو کی نجکاری سے عام صارفین پر کیا اثر پڑے گا؟

فیصل آباد، جھنگ اور قریبی اضلاع کے صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے نجکاری سروس کی فراہمی میں بڑی تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ اس وقت پاکستان کا پاور سیکٹر 2.3 ٹریلین روپے سے زائد کے گردشی قرضے کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ لائن لاسز، بجلی چوری اور سرکاری اداروں کی ناقص مینجمنٹ ہے۔

سفائر یا نشان گروپ جیسے نجی شعبے کے آنے سے بلنگ کا نظام جدید ہونے، کرپشن میں کمی اور کسٹمر سروس بہتر ہونے کی امید ہے۔ تاہم، عام طور پر یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ نجکاری سے بجلی مزید مہنگی ہو جائے گی۔ صارفین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان میں بجلی کے ٹیرف کا تعین نجی مالکان نہیں بلکہ نیپرا (NEPRA) کرتا ہے۔ قیمتوں میں کسی بھی قسم کے ردوبدل کے لیے ریگولیٹری منظوری لازم ہوگی۔

صارفین اور سرمایہ کاروں کے لیے اگلا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے؟

اگر آپ سرمایہ کار ہیں یا فیسکو کے صارف، تو آپ کو ان باتوں پر نظر رکھنی چاہیے:
- اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کے لیے: سفائر فائبرز (SFL) کے حصص کی قیمتوں پر نظر رکھیں۔ اس طرح کے بڑے سودوں کے اعلانات سے شیئرز کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ یہ بھی دیکھیں کہ کمپنی اس خریداری کے لیے فنڈز کا بندوبست کیسے کرتی ہے۔
- فیصل آباد کے صنعتی صارفین کے لیے: نجکاری کمیشن کے پورٹل پر بولی کے شیڈول پر نظر رکھیں۔ نجی ملکیت میں جانے کے بعد صنعتوں کے لیے بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے معاہدے آسان ہو سکتے ہیں۔
- ٹائم لائن پر نظر رکھیں: وفاقی حکومت 2025 کی پہلی سہ ماہی تک اس عمل کو مکمل کرنا چاہتی ہے۔ اس ٹائم لائن میں کوئی بھی تاخیر فیسکو کے واجب الادا قرضوں یا ریگولیٹری مسائل کی نشاندہی کرے گی۔