سعودی عرب کا نیا دفاعی معاہدہ خطے میں سیکیورٹی کی مکمل ضمانت نہیں ہے، اس بات کا اظہار ایرانی رہنما ابراہیم رضائی نے ایک حالیہ بیان میں کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب ماضی میں کئی دہائیوں تک امریکہ پر انحصار کرتا رہا ہے، اور محض نئے معاہدوں سے سیکیورٹی کے دیرینہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔
سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ اور علاقائی خدشات
ابراہیم رضائی کے مطابق، ریاض کی جانب سے اپنی سیکیورٹی پالیسیوں میں تبدیلی اور نئے دفاعی اتحادوں کی طرف پیش قدمی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے دفاعی ڈھانچے کو متنوع بنانا چاہتے ہیں۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ بیرونی طاقتوں یا نئے اتحادوں پر انحصار خطے میں پائیدار امن کی ضمانت نہیں بن سکتا۔
ترک صدر کا موقف
دوسری جانب، ترک صدر طیب اردوان نے سہ فریقی دفاعی معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے اسے خطے کے استحکام کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ ترک صدر کا کہنا ہے کہ یہ دفاعی تعاون کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد خطے میں امن و امان کو فروغ دینا ہے۔ ترک حکام کے مطابق، یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
پاکستان کے لیے اہمیت
پاکستان کے لیے مشرق وسطیٰ کی یہ بدلتی ہوئی صورتحال انتہائی اہم ہے۔ خطے میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور ریاض، انقرہ اور تہران کے درمیان تعلقات کی نوعیت آنے والے وقت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
- معاہدے کا مقصد انٹیلی جنس اور دفاعی وسائل کا تبادلہ ہے۔
- ناقدین کا کہنا ہے کہ پرانی روایات سے ہٹ کر نئے اتحادوں کی کامیابی مشکوک ہے۔
- خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں پر عالمی طاقتوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
مستقبل کا منظرنامہ
آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ دفاعی معاہدے محض سفارتی بیان بازی تک محدود رہتے ہیں یا عملی طور پر سرحدوں پر کشیدگی کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ان معاہدوں سے واقعی علاقائی استحکام پیدا ہوا تو یہ مشرق وسطیٰ کی معیشت اور سیکیورٹی کے لیے ایک مثبت قدم ہوگا۔ تاہم، ابراہیم رضائی جیسے رہنماؤں کے تحفظات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے صرف عسکری معاہدے کافی نہیں ہوں گے۔
