سعودی عرب کے اسیاڈ (Asyad) گروپ نے پاکستان میں ہوائی اڈوں کی نجکاری کے عمل میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ سعودی گروپ پاکستان کے اہم ترین ہوائی اڈوں کے آپریشنز حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی تکنیکی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک مضبوط کنسورشیم بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت پاکستان بیرونی سرمایہ کاری راغب کرنے اور ہوا بازی کے شعبے کو جدید بنانے کے لیے ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے کی کوششیں تیز کر رہی ہے۔
ہوائی اڈوں کی نجکاری کے اہم حقائق
- بڑی کمپنی: سعودی عرب کا اسیاڈ گروپ، جو مختلف شعبوں میں وسیع کاروباری نیٹ ورک رکھتا ہے۔
- بنیادی ہدف: اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ (IIA) کے آپریشنز اور انتظام، جس کے بعد کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں کی باری آئے گی۔
- مشاورتی ادارہ: انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) اس عمل میں وفاقی حکومت کے لیے لیڈ ٹرانزیکشن ایڈوائزر کے طور پر کام کر رہا ہے۔
- کنسورشیم کی حکمت عملی: اسیاڈ گروپ دنیا کے بہترین ایئرپورٹ آپریٹرز کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے تاکہ پاکستان میں عالمی معیار کی تکنیکی مہارت لائی جا سکے۔
اسیاڈ گروپ کی پاکستان میں دلچسپی کی وجہ
سعودی عرب کے اسیاڈ گروپ کی جانب سے پاکستان ایئرپورٹ نجکاری (pakistan airport privatization) کے منصوبے میں دلچسپی کوئی غیر متوقع اقدام نہیں ہے۔ یہ ریاض کی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ جنوبی ایشیا، بالخصوص پاکستان میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے ذریعے اپنی سرمایہ کاری بڑھانا چاہتا ہے۔
اسیاڈ گروپ اکیلے بولی لگانے کے بجائے ایک مشترکہ کنسورشیم بنانے پر کام کر رہا ہے۔ اس شراکت داری میں سعودی مالیاتی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ایئرپورٹ مینجمنٹ کمپنیوں کی مہارت بھی شامل ہوگی۔ یہ حکمت عملی پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (PCAA) کی اس شرط کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے جس کے تحت بولی دہندہ کے پاس بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کو چلانے کا تجربہ ہونا لازمی ہے۔
ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کے منصوبے کی موجودہ صورتحال
وفاقی حکومت نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایئرپورٹ کے ٹرمینل آپریشنز، اراضی اور کارگو ہینڈلنگ کو 15 سے 20 سال کے لیے نجی آپریٹر کے حوالے کیا جائے گا۔
انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) وزارت ہوا بازی کے ساتھ مل کر ایک ایسا معاہدہ تیار کر رہی ہے جو قومی مفادات کا تحفظ بھی کرے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بھی پرکشش ہو۔ اگرچہ بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے تفصیلی سوالات کے باعث بولی جمع کرانے کی آخری تاریخوں میں کئی بار توسیع کی گئی ہے، لیکن حکومت اس عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اسلام آباد کے بعد کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں کی نجکاری کا عمل شروع کیا جائے گا۔
پاکستانی مسافروں اور معیشت پر اس کے اثرات
عام پاکستانی مسافر کے لیے اس نجکاری کے نتیجے میں خدمات کے معیار میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ اس وقت سرکاری انتظام کے تحت چلنے والے ہوائی اڈوں پر صفائی، سامان کی تاخیر سے فراہمی اور مسافروں کے لیے ناکافی سہولیات کی شکایات عام ہیں۔ نجی انتظام کے تحت درج ذیل تبدیلیاں متوقع ہیں:
- عالمی معیار کی سہولیات: جدید ترین لاؤنجز، امیگریشن کے تیز رفتار کاؤنٹرز اور خریداری و کھانے پینے کے بہتر مراکز۔
- بہتر کارکردگی: سامان کی ٹریکنگ کے جدید نظام اور پروازوں کی تاخیر میں کمی۔
- بنیادی ڈھانچے کی بہتری: قومی خزانے پر بوجھ ڈالے بغیر رن ویز اور ٹرمینلز کی جدید کاری۔
تاہم، اس کا دوسرا رخ بھی ہے۔ نجی آپریٹرز اپنی سرمایہ کاری کی وصولی کے لیے ایئرپورٹ ڈویلپمنٹ فیس، پارکنگ چارجز اور سروس ٹیکسز میں اضافہ کر سکتے ہیں، جس سے فضائی سفر عام مسافروں کے لیے مہنگا ہو سکتا ہے۔
معاشی لحاظ سے یہ سودا انتہائی اہم ہے۔ پاکستان کو اس وقت بیرونی زرِمبادلہ کے ذخائر کی شدید ضرورت ہے۔ نجکاری کے اس ماڈل کے تحت حکومت کو ایڈوانس کنسیشن فیس ملے گی، جبکہ آپریٹر ایئرپورٹ کی توسیع میں سرمایہ کاری کرنے کا پابند ہوگا۔
مسافروں اور شہریوں کے لیے اہم ہدایات
اگر آپ فضائی سفر کرتے ہیں یا ہوا بازی کے شعبے سے وابستہ ہیں، تو آپ کو درج ذیل امور پر نظر رکھنی چاہیے:
- فیسوں کے ڈھانچے کی نگرانی: سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے مسافر ٹیکس یا سروس چارجز میں ممکنہ تبدیلیوں پر نظر رکھیں۔
- بولی کی آخری تاریخ: بولی جمع کرانے کے عمل سے واضح ہوگا کہ سعودی گروپ کے مقابلے میں متحدہ عرب امارات (UAE) یا ترکیہ کی کون سی کمپنیاں میدان میں آ رہی ہیں۔
- آفیشل اپ ڈیٹس حاصل کریں: اس عمل کی تازہ ترین تفصیلات کے لیے نجکاری کمیشن کی آفیشل ویب سائٹ (privatisation.gov.pk) اور SIFC کی ویب سائٹ (sifc.gov.pk) کا وزٹ کرتے رہیں۔
آنے والے چند مہینے یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا حکومت اس اہم ترین سودے کو کامیابی سے مکمل کر پاتی ہے یا نہیں۔ اگر اسیاڈ گروپ یہ بولی جیتنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے پاکستان کے لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ سیکٹرز میں مزید سعودی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔
