سعودی حکام نے مسجد الحرام میں ہجوم پر قابو پانے اور عبادات کو سہولت فراہم کرنے کے لیے عمرہ زائرین کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان سعادت حاصل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں، جس کے پیش نظر حرمین شریفین کی انتظامیہ نے زائرین کے رش کو منظم کرنے کے لیے یہ اقدامات اٹھائے ہیں۔ نئی ہدایات کا بنیادی مقصد زائرین کو کم رش کے اوقات میں طواف اور سعی کرنے کی ترغیب دینا ہے تاکہ عبادت کے دوران کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے عازمین جو اس وقت مملکت میں موجود ہیں یا جانے کی تیاری کر رہے ہیں، ان کے لیے ان ہدایات پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ رات گئے اور صبح کے اوقات میں زائرین کی تعداد نسبتاً کم ہوتی ہے، جو عبادات کی ادائیگی کے لیے بہترین وقت ہے۔ زائرین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ٹور آپریٹرز کے ساتھ مل کر اوقات کا تعین کریں اور نسک ایپ کے ذریعے تازہ ترین معلومات سے آگاہ رہیں۔

مسجد الحرام میں رش کے اوقات کا انتظام

نئی ہدایات کا محور فریضہ نماز خاص طور پر مغرب اور عشاء کے بعد کے اوقات میں شدید رش سے بچنا ہے۔ ان اوقات میں مسجد الحرام کے دروازوں پر زائرین کا طوفان امڈ آتا ہے جس سے راستے بند ہو جاتے ہیں۔ اگر زائرین رات بارہ بجے سے فجر کے درمیان کا وقت اپنی عبادات کے لیے منتخب کریں تو وہ طویل قطاروں اور تھکن سے بچ سکتے ہیں۔

زائرین کے لیے اہم ہدایات

اگر آپ سفر کی تیاری کر رہے ہیں یا مکہ میں موجود ہیں، تو درج ذیل احتیاطی تدابیر پر ضرور عمل کریں:

  • نسک ایپ کے ذریعے اپنے مخصوص اوقات کار کی پیشگی بکنگ کریں۔
  • طواف کے دوران غیر ضروری سامان ساتھ لے جانے سے گریز کریں۔
  • سیکورٹی اہلکاروں کی جانب سے بنائے گئے راستوں اور ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
  • زمزم کے پانی کا استعمال جاری رکھیں اور اپنی صحت کا خیال رکھیں۔

آئندہ کے لیے اہم امور

عمرہ سیزن کے دوران سعودی حکام کی جانب سے مزید ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور حفاظتی اقدامات متوقع ہیں۔ وزارت حج و عمرہ کے اعلانات پر نظر رکھیں تاکہ اجازت ناموں یا راستوں کی تبدیلی سے بروقت آگاہی مل سکے۔