اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے ایس بی پی ہاؤسنگ فنانس کے ضوابط میں اہم ترامیم متعارف کراتے ہوئے قرض کی واپسی کی زیادہ سے زیادہ مدت بڑھا کر 30 سال کر دی ہے۔ اس نئے ضابطے کا اطلاق گھر، فلیٹ یا رہائشی پلاٹ خریدنے کے خواہش مند تمام شہریوں پر ہوگا۔ قرض کی ادائیگی کا دورانیہ طویل ہونے سے متوسط طبقے کے لیے ماہانہ قسطیں ادا کرنا نسبتاً آسان ہو جائے گا جو بڑھتی ہوئی جائیدادوں کی قیمتوں کی وجہ سے پریشان تھے۔
پاکستان میں ہوم لون کے نئے ضوابط
نظرثانی شدہ فریم ورک کے تحت، کمرشل بینک اور ہاؤسنگ فنانس کمپنیاں اب تین دہائیوں تک کے ہوم لون پیکیجز جاری کر سکیں گے۔ اس طویل مدتی سہولت سے قرض لینے والوں پر ماہانہ مالی بوجھ کم ہوگا، جس سے خاندانوں کو اپنے محدود بجٹ کو متاثر کیے بغیر طویل مدتی سرمایہ کاری کا موقع ملے گا۔ ان نئے قواعد میں تیار فلیٹس کی خریداری، اپنے پلاٹ پر مکان کی تعمیر اور خالی پلاٹ کی خریداری سب شامل ہیں۔
- قرض کی واپسی کی زیادہ سے زیادہ مدت 30 سال کر دی گئی
- مکانات، فلیٹس اور رہائشی پلاٹوں پر قابل اطلاق
- متوسط طبقے کے لیے رہائشی قرضوں کی رسائی بہتر بنانا مقصد
- نفاذ کمرشل بینکوں اور ہاؤسنگ فنانس اداروں کے ذریعے ہوگا
قرض لینے والوں کے لیے اگلا قدم
اگر آپ ان نئے ہوم لون پاکستان قواعد سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو فوری طور پر اپنے کمرشل بینک کے کنزیومر فنانسنگ ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کریں۔ مرکزی بینک کی نئی ہدایات کے مطابق بینکوں کی طرف سے متعارف کروائے جانے والے نئے مارگیج پروڈکٹس کے بارے میں معلومات لیں۔ اپنی آمدنی کے ثبوت، ٹیکس گوشواروں اور پراپرٹی کے کاغذات کو تیار رکھیں کیونکہ 30 سالہ سہولت کی منظوری سے پہلے بینک آپ کی مالیاتی حیثیت کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
اس بات پر نظر رکھیں کہ کمرشل بینک مرکزی بینک کی اس ہدایت کے جواب میں اپنے مارک اپ ریٹس اور ڈاؤن پیمنٹ کی شرائط میں کس طرح ردوبدل کرتے ہیں۔ اگرچہ 30 سالہ مدت ایک بڑی ریلیف ہے، لیکن قرض کی اصل لاگت زیادہ تر سود کی شرح اور بینک کے اپنے پروسیسنگ چارجز پر منحصر ہوگی۔ ایس بی پی کی طرف سے مزید سرکولرز کا انتظار کریں جو ان طویل مدت قرضوں کے ساتھ منسلک سبسڈی اسکیموں سے متعلق ہوں۔
