اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے پیشگوئی کی ہے کہ جاری معاشی استحکام کے اقدامات کے باعث آئندہ مالی سال 2027 میں پاکستان کی معاشی ترقی 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہے گی۔ جمعہ کے روز گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے یہ اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے مالیاتی منڈیوں کو بتایا کہ ملک طویل معاشی بحران کے بعد بتدریج بہتری کی طرف گامزن ہے۔

کراچی، لاہور، اسلام آباد اور ملک بھر کے شہریوں اور کاروباروں کے لیے یہ پیشگوئی ایک خوش آئند خبر ہے، خاص طور پر بلند مہنگائی اور قوت خرید میں کمی کے طویل دور کے بعد۔ اگرچہ مرکزی بینک کی فوری توجہ جاری اکاؤنٹ کے خسارے کو قابو میں رکھنے اور مہنگائی کو اعتدال پر لانے پر ہے، لیکن طویل مدتی بنیادوں پر صنعتی پیداوار اور گھریلو طلب کو بڑھانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

معاشی ترقی کی پیشگوئی کی بنیادی وجوہات

مرکاری بینک کا یہ تخمینہ اس بات پر مبنی ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ طے پانے والے اصلاحاتی ایجنڈے پر بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے عمل درآمد جاری رہے گا۔ گزشتہ ایک سال کے دوران سخت مانیٹری پالیسی نے مہنگائی کی شرح کو تاریخی بلندیوں سے نیچے لانے میں کامیابی حاصل کی ہے، جس سے کاروباری ماحول میں بہتری آئی ہے۔

  • مانیٹری پالیسی: افراط زر کے اسٹیٹ بینک کے ہدف کے اندر آنے کے بعد شرح سود میں مزید کمی کا امکان ہے۔
  • بیرونی اکاؤنٹ: سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر اور برآمدات میں استحکام نے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا ہے۔
  • مالیاتی نظم و ضبط: بنیادی سرپلس کے اہداف پر عمل درآمد سے حکومت کے اندرونی قرضوں کے حصول میں کمی آئی ہے۔

عام شہریوں اور منڈیوں پر اثرات

اگر اسٹیٹ بینک کی یہ توقعات پوری ہوتی ہیں تو عام شہریوں کو مالی سال 2027 تک زندگی کے اخراجات اور مالیاتی لاگت میں کچھ راحت مل سکتی ہے۔ کار فنانسنگ، ہوم لونز اور نجی شعبے کے قرضے، جو شرح سود میں اضافے کے باعث معطل ہو چکے تھے، بتدریج بحাল ہونے کی توقع ہے۔

تاہم، ماہرینِ معیشت خبردار کرتے ہیں کہ اس ہدف کا حصول سیاسی استحکام اور توانائی کے شعبے میں سخت اصلاحات سے مشروط ہے۔ اگر بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ بڑھتا رہا یا عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتیں اچانک بڑھ گئیں تو صنعتی توسیع متاثر ہو سکتی ہے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کے اجلاسوں پر کڑی نظر رکھیں جہاں شرح سود میں کمی کے حوالے سے اشارے ملیں گے، جو اس بات کا تعین کریں گے کہ تجارتی بینک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کے لیے قرضے کب بحال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ تجارتی اعداد و شمار اور زرِمبادلہ کے ذخائر کا جائزہ لیتے رہیں تاکہ معاشی سمت کا درست اندازہ ہو سکے۔