صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے ججوں کے معاوضے اور مراعات میں ایک اہم اضافے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت ان کی ماہانہ تنخواہ اور سہولتیں فیڈرل کانسٹیটিউশনাল کورٹ کے فریم ورک کے مساوی کر دی گئی ہیں۔ نئے منظور شدہ اسٹرکچر کے تحت، عدالت عظمیٰ کے ججوں کو ماہانہ 1.5 ملین روپے تنخواہ ملے گی، ساتھ ہی اسلام آباد میں اعلیٰ ترین عدلیہ کے معیار کے مطابق طبی، سفری اور رہائشی الاؤنسز کا پیکیج بھی اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے۔
اس انتظامی تبدیلی سے پاکستانی عدلیہ کی اعلیٰ ترین سطح پر جانشینی کے امور بھی طے پا گئے ہیں۔ جسٹس یحیٰ آفریدی اپنی ریٹائرمنٹ تک پاکستان کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہیں گے۔ تاہم، اس کے بعد یہ عہدہ فیڈرل کانسٹیটিউশনাল کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میں سے جو بھی سینئر ہوگا، اسے منتقل کر دیا جائے گا۔
مالیاتی پیکیج کی تفصیلات
تنخواہوں میں اس اضافے کے بعد بنیادی ماہانہ معاوضہ 1.5 ملین روپے ہو گیا ہے، جو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور آئینی بنچوں پر انتظامی ذمہ داریوں کی عکاسی کرتا ہے۔ بنیادی تنخواہ کے ساتھ ساتھ، منظور شدہ فریم ورک نے سرکاری گاڑیوں کی فراہمی، سیکیورٹی اور یوٹیلیٹی الاؤنسز کو بھی معیاری بنا دیا ہے۔ ان تبدیلیوں سے اسلام آباد میں تمام اعلیٰ ججوں کو یکساں مالی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
جانشینی اور انتظامی وضاحت
معاوضوں کے علاوہ، اس نوٹیفیکیشن میں سپریم کورٹ اور متوازی آئینی ڈھانچے کے درمیان تعلقات کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ یہ تصدیق کرتے ہوئے کہ جسٹس یحیٰ آفریدی اپنی ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک اعلیٰ ترین عدلیہ کے سربراہ رہیں گے، حکومت نے اسلام آباد میں قیادت کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کو دور کر دیا ہے۔
تاہم، اس کے بعد کا منتقلی کا اصول ایک نیا قدم ہے۔ مستقبل کے فیصلوں میں روایتی سنگل بنچ کی سنیارٹی کے بجائے سپریم کورٹ یا فیڈرل کانسٹیটিউশনাল کورٹ کے پول میں سے سینئر ترین جج کو منتخب کیا جائے گا۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
قانونی ماہرین اور پارلیمانی مبصرین اس بات کا جائزہ لیں گے کہ بار ایسوسی ایشنز اس فیصلے پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، قانون و انصاف کمیشن کی جانب سے 1.5 ملین روپے کی ماہانہ تنخواہ کے تناظر میں مراعات اور پنشن کے نفاذ کے حتمی شیڈول کا انتظار رہے گا۔
