خیبرپختونخوا کے سب سے بڑے کاروباری ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر سرکاری کاغذی کارروائی، لاگتوں اور اجازت ناموں کی تاخیر کو فوری طور پر کم نہ کیا گیا تو صوبہ سرمایہ کاروں اور روزگار کے مواقعوں سے محروم ہوتا رہے گا۔
سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایس سی سی آئی) نے جمعے کو پریس کانفرنس میں کہا کہ کاروباری سہولت میں بہتری ہی خیبرپختونخوا میں معاشی سرگرمیوں، صنعت اور سرمایہ کاری کو بحال کرنے کا واحد راستہ ہے۔ پشاور میں ہونے والی اس پریس کانفرنس میں ایس سی سی آئی کے صدر زبیر انور نے کہا کہ صوبے کی پاکستان بزنس رجسٹری انڈیکس پر درجہ بندی تین سال سے مسلسل گر رہی ہے جس سے مقامی کمپنیوں کو لاکھوں روپے کے ٹھیکے اور تاخیر شدہ اجازت ناموں کی صورت میں نقصان ہو رہا ہے۔
- موجودہ درجہ بندی: خیبرپختونخوا پاکستان بزنس رجسٹری انڈیکس 2025 میں صوبوں میں 12ویں نمبر پر ہے۔
- پنجاب سے فرق: پنجاب کا سکور 72.5 ہے جبکہ خیبرپختونخوا کا سکور 58.3 ہے—یعنی 14 پوائنٹس کا فرق۔
- تاخیر کا نقصان: خیبرپختونخوا میں ایک صنعتی اجازت نامہ حاصل کرنے میں 45 دن لگتے ہیں جبکہ پنجاب میں یہ کام 21 دن میں ہو جاتا ہے۔ ہر ہفتے کی تاخیر سے ایک چھوٹے مینوفیکچرر کو 150,000 سے 200,000 روپے کا نقصان ہوتا ہے۔
آپ کے لیے خیبرپختونخوا کی درجہ بندی کیوں اہم ہے
اگر آپ پشاور، مردان، نوشہرہ یا ایبٹ آباد میں فیکٹری، دکان یا اسٹارٹ اپ چلاتے ہیں تو تاخیریں اور اضافی لاگت آپ کی منافع پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔ ایس سی سی آئی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 38 فیصد خیبرپختونخوا کے برآمد کنندگان نے اپنا کچھ حصہ پنجاب یا سندھ منتقل کر دیا ہے کیونکہ وہاں اجازت ناموں اور معائنوں میں تاخیر اور لاگت کم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کے پاس کم آرڈر، کم روزگار اور صوبے کے لیے کم ٹیکس آمدن ہو گی۔
چیمبر نے تین اہم رکاوٹوں کی نشاندہی کی ہے:
- زمین کے کاغذات: صنعت کے لیے مختص زمین کے کاغذات کو ریونیو ڈیپارٹمنٹ سے کے پی بورڈ آف ریونیو میں منتقل ہونے میں 12 سے 18 ماہ لگ جاتے ہیں—چاہے تمام کاغذات درست ہوں۔
- مرافقات کی کنکشن: خیبرپختونخوا میں فیکٹری کے لیے نئی بجلی کا کنکشن حاصل کرنے میں 6 سے 8 ہفتے لگتے ہیں جبکہ پنجاب میں یہ کام 3 سے 4 ہفتوں میں ہو جاتا ہے۔ گیس کے کنکشن اور بھی سست ہیں: 10 سے 12 ہفتے جبکہ لاہور میں یہ 6 سے 8 ہفتوں میں ہو جاتا ہے۔
- ٹیکس واپسی: برآمد کنندگان کو سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کی واپسی 120 سے 150 دن میں ملتی ہے جبکہ سندھ اور پنجاب میں یہ کام 60 سے 90 دن میں ہو جاتا ہے۔
ایس سی سی آئی کیا چاہتا ہے—اور کب تک
چیمبر نے خیبرپختونخوا حکومت، وفاقی محصولات بورڈ (ایف بی آر) اور انوسٹمنٹ بورڈ آف پاکستان (بی او آئی) کو چھ نکاتی اصلاحی پیکج بھیجا ہے۔ ان مطالبات میں شامل ہیں:
- سنگل ونڈو اجازت نامے: 30 جون 2026 تک ایک ڈجیٹل پورٹل لانچ کیا جائے جو کاروباریوں کو زمین، مرافقات اور ٹیکس رجسٹریشن کے لیے ایک جگہ سے درخواست دینے دے۔ یہ پورٹل اجازت ناموں کا وقت 10 دن تک کم کر دے گا۔
- زمین کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن: خیبرپختونخوا کے تمام زمین کے ریکارڈ کو 31 دسمبر 2026 تک ڈیجیٹل کر دیا جائے تاکہ اجازت ناموں کی تاخیر کم ہو۔
- مرافقات کا تیز رفتار نظام: خیبرپختونخوا کے ون ونڈو سیل کو بجلی اور گیس کے نئے کنکشن 30 ستمبر 2026 تک 14 دن میں منظور کر دے۔
- ٹیکس واپسی کا آٹومیشن: ایف بی آر کے واپسی نظام کو خیبرپختونخوا کے سیلز ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مربوط کیا جائے تاکہ برآمد کنندگان کو واپسی 31 مارچ 2027 تک 30 دن میں مل سکے۔
- معائنوں میں اصلاح: معائنوں کو جوखم پر مبنی آڈٹ سے بدل دیا جائے تاکہ معیاری فیکٹریوں کے لیے سالانہ معائنوں کی تعداد چار سے کم ہو کر ایک رہ جائے۔
- سرمایہ کاری کی ترغیبات: خیبرپختونخوا صنعتی پالیسی 2021 کے تحت نئی فیکٹریوں کو 30 جون 2028 تک ٹیکس چھوٹ دی جائے۔
آپ کی جیب پر کیا اثر پڑے گا
- لاگت میں کمی: تیز رفتار اجازت ناموں اور سستے مرافقات سے ایک چھوٹے مینوفیکچرر کی لاگت 15 سے 20 فیصد کم ہو سکتی ہے۔
- مزید روزگار: ایس سی سی آئی کا اندازہ ہے کہ اگر خیبرپختونخوا کا کاروباری سہولت کا سکور 70 تک پہنچ جائے تو صوبے میں 25,000 سے 30,000 نئے صنعتی روزگار 2028 تک پیدا ہو سکتے ہیں۔
- برآمدات میں اضافہ: جو فیکٹریاں فی سال 500 ملین روپے کی برآمدات کرتی ہیں وہ اگر واپسی اور معائنوں میں تاخیر ختم ہو جائے تو اپنی برآمدات 25 سے 30 فیصد تک بڑھا سکتی ہیں۔
اگلا کیا ہوگا
خیبرپختونخوا حکومت نے ابھی تک ایس سی سی آئی کے پیکج کا باضابطہ جواب نہیں دیا ہے۔ تاہم خیبرپختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ نے نئی پاکستان کو بتایا ہے کہ وہ اس تجویز پر غور کر رہا ہے اور 15 مئی 2026 کو پشاور میں عوامی نجی مکالمے کا انعقاد کرے گا تاکہ ایک ٹائم لائن طے کی جا سکے۔
کاروباری مالکان پیش رفت پر نظر رکھ سکتے ہیں کے پی بورڈ آف انوسٹمنٹ کی ویب سائٹ (https://kpboi.gov.pk) یا ایس سی سی آئی پورٹل (https://scci.org.pk) پر۔
آپ آج ہی کیا کر سکتے ہیں
- اپنے اجازت نامے کی حیثیت چیک کریں: اگر آپ زمین کی منتقلی، مرافقات کے کنکشن یا ٹیکس واپسی کا انتظار کر رہے ہیں تو ایک بار کے پی سنگل ونڈو پورٹل لانچ ہونے کے بعد اس کی حیثیت چیک کریں۔
- لابی میں شامل ہوں: اپنے ایم پی اے اور خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو ایس سی سی آئی کے رابطے کے فارم (https://scci.org.pk/contact) کے ذریعے لکھیں تاکہ اصلاحات کی رفتار بڑھائی جا سکے۔
- لاگتوں کا موازنہ کریں: ایف بی آر کے آن لائن ٹیکس کیلکولیٹر (https://fbr.gov.pk/calculator) استعمال کریں تاکہ دیکھ سکیں کہ تیز رفتار واپسی آپ کو کتنی بچت دے سکتی ہے۔
اصل بات
خیبرپختونخوا کی معیشت خود بخود بحال نہیں ہو سکتی۔ ایس سی سی آئی کا چھ نکاتی منصوبہ ایک راہنما ہے لیکن یہ تب ہی کام کرے گا جب حکومت، ریگولیٹرز اور کاروباری مل کر کام کریں۔ اگر تاخیریں اور کاغذی کارروائی کا سلسلہ جاری رہا تو اور فیکٹریاں اور روزگار چپکے سے پنجاب یا سندھ منتقل ہو جائیں گے—اور خیبرپختونخوا پیچھے ہی رہ جائے گا۔
وقت بہت کم ہے: اگلے چھ ماہ طے کریں گے کہ خیبرپختونخوا کی کاروباری سہولت بہتر ہوتی ہے یا مزید بگڑتی ہے۔
