آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے ایک انقلابی 3 minute charging battery تیار کی ہے جو صرف 3 منٹ میں مکمل چارج ہو سکتی ہے اور اسے 60 ہزار مرتبہ ری چارج کیا جا سکتا ہے۔ یہ نئی ایجاد پاکستان میں اسمارٹ فون اور الیکٹرک گاڑیوں کے صارفین کے لیے چارجنگ کے مسائل کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

آسٹریلیا کی فلینڈرز یونیورسٹی کے محققین نے اس اہم کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے ایسی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو روایتی لیتھیم آئن بیٹریوں سے بالکل مختلف ہے۔ یہ نئی بیٹری جدید دور کے الیکٹرانک آلات کی دو سب سے بڑی مشکلات یعنی سست چارجنگ اور وقت کے ساتھ بیٹری کی کارکردگی میں کمی کو دور کرتی ہے۔

نئی بیٹری کی اہم خصوصیات

- چارجنگ کا وقت: صفر سے 100 فیصد تک صرف 3 منٹ میں۔
- لائف اسپیان: 60 ہزار مرتبہ مکمل چارج کرنے کی صلاحیت۔
- تیار کنندہ: فلینڈرز یونیورسٹی، جنوبی آسٹریلیا کے محققین۔
- بنیادی تبدیلی: روایتی لیتھیم آئن کے بجائے زیادہ محفوظ اور تیز رفتار مٹیریل کا استعمال۔

نئی بیٹری کے پیچھے موجود سائنسی ٹیکنالوجی

عام اسمارٹ فونز میں استعمال ہونے والی لیتھیم آئن بیٹریاں مائع الیکٹرولائٹ کے ذریعے کام کرتی ہیں، جس میں آئنز کی حرکت سست ہوتی ہے۔ اس عمل سے گرمی پیدا ہوتی ہے، چارجنگ کی رفتار محدود ہو جاتی ہے اور وقت کے ساتھ بیٹری خراب ہو جاتی ہے۔ عام طور پر ایک فون کو چارج ہونے میں 30 منٹ سے کئی گھنٹے لگتے ہیں، اور 500 سے 1000 بار چارج ہونے کے بعد ان کی صحت گرنے لگتی ہے۔

فلینڈرز یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایسے کیمیائی مرکبات کا استعمال کیا ہے جو بغیر گرمی پیدا کیے توانائی کو تیزی سے منتقل کرتے ہیں۔ 60 ہزار بار چارج ہونے کی صلاحیت کا مطلب ہے کہ یہ بیٹری بغیر کسی خرابی کے 150 سال سے زیادہ عرصے تک چل سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے اس ٹیکنالوجی کی اہمیت

پاکستانی صارفین کے لیے یہ ٹیکنالوجی انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور وولٹیج کے مسائل عام ہیں۔ ایسے میں صرف 3 منٹ میں فون یا پاور بینک کا چارج ہونا کسی نعمت سے کم نہیں ہوگا۔

اس کے علاوہ، پاکستان میں الیکٹرک بائیکس اور تھری وہیلرز کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ چارجنگ کا طویل وقت اور بیٹری کی تبدیلی کے بھاری اخراجات ہیں۔ اگر یہ بیٹریاں مقامی مارکیٹ میں آتی ہیں تو الیکٹرک بائیکس کے مالکان کو چارجنگ کے طویل انتظار سے نجات مل جائے گی۔

یہ بیٹری کب تک دستیاب ہوگی؟

لیبارٹری کے کامیاب تجربات کے بعد اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر مارکیٹ میں لانے کے لیے وقت درکار ہے۔ محققین کی ٹیم فی الحال تجارتی شراکت داروں کی تلاش میں ہے تاکہ اس کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کی جا سکے۔

صنعتی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے 3 سے 5 سالوں میں یہ بیٹریاں اسمارٹ فونز اور دیگر چھوٹے الیکٹرانک آلات میں دستیاب ہو سکتی ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں اور سولر سسٹمز کے لیے اس ٹیکنالوجی کے استعمال میں تھوڑا مزید وقت لگ سکتا ہے۔

صارفین کے لیے اہم مشورے

چونکہ یہ بیٹری ابھی تجارتی پیمانے پر دستیاب نہیں ہے، اس لیے موجودہ فونز کی بیٹری لائف کو بہتر رکھنے کے لیے ان اقدامات پر عمل کریں:

  • رات بھر چارجنگ سے گریز کریں: فون کو 100 فیصد چارج ہونے کے بعد بھی پلگ ان رکھنے سے لیتھیم آئن بیٹری کی عمر کم ہوتی ہے۔
  • گرمی سے بچائیں: چارجنگ کے دوران فون کا زیادہ گرم ہونا بیٹری کو نقصان پہنچاتا ہے۔ دھوپ میں یا ہیوی گیمنگ کے دوران چارجنگ نہ کریں۔
  • اصلی چارجر کا استعمال کریں: مقامی مارکیٹوں میں ملنے والے سستے اور غیر معیاری چارجرز وولٹیج میں اتار چڑھاؤ کا باعث بنتے ہیں جو بیٹری کو مستقل خراب کر سکتے ہیں۔