سائنسدانوں نے فنگل مائیسیلیم ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا زندہ کپڑا جو خود کو مرمت کرتا ہے تیار کر لیا ہے، جو پائیدار اور خودکار مواد کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ چین کے محققین کی جانب سے تیار کردہ یہ ٹیکسٹائل نہ صرف جسم کو ڈھانپتا ہے بلکہ اپنی سطح کی سالمیت کو بھی فعال طور پر برقرار رکھتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے؟

اس ٹیکنالوجی کی بنیاد میں مائیسیلیم کا استعمال ہے، جو فنگس کا جڑ نما ڈھانچہ ہوتا ہے۔ جب اس مواد میں کوئی کٹ لگ جائے یا یہ خراب ہونے لگے، تو فنگل سیلز خود کو دوبارہ تخلیق کر سکتے ہیں، جس سے کپڑا خوردبینی سطح پر خود بخود جڑ جاتا ہے۔

مرمت کے علاوہ، یہ کپڑا خود کو صاف کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس کے حیاتیاتی اجزاء سطح پر موجود گندگی کو توڑ دیتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ آپ کے کپڑے روایتی دھلائی کے بغیر زیادہ دیر تک صاف رہ سکتے ہیں۔ یہ پانی کے ضیاع اور کیمیائی صابن کے استعمال کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جو عام لانڈری کے عمل میں بہت زیادہ خرچ ہوتے ہیں۔

پاکستان کے لیے اس کی اہمیت

پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں ٹیکسٹائل انڈسٹری معیشت کا اہم ستون ہے، یہ اختراع مستقبل میں بہت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر اس مواد کو تجارتی پیمانے پر تیار کیا جا سکے، تو اس کے فوائد درج ذیل ہوں گے:

  • فضلہ میں کمی: زیادہ دیر تک چلنے والے کپڑے لینڈ فلز میں ٹیکسٹائل کے کچرے کو کم کریں گے۔
  • دیکھ بھال میں آسانی: خود کو صاف کرنے کی خصوصیات لانڈری پر خرچ ہونے والے وقت اور بجلی کی بچت کریں گی۔
  • پائیدار پیداوار: مائیسیلیم بائیو ڈیگریڈیبل ہے اور اسے روئی یا مصنوعی ریشوں کے مقابلے میں کم وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

فی الحال یہ ٹیکنالوجی لیبارٹری کے مراحل میں ہے اور اسے عام بازاروں میں دستیاب ہونے میں وقت لگے گا۔ محققین کو ابھی یہ یقینی بنانا ہے کہ یہ کپڑا مختلف موسموں، جیسے کراچی کی نمی یا لاہور کی خشک گرمی میں مستحکم رہے اور انسانی جلد کے لیے الرجی کا باعث نہ بنے۔

آنے والے وقت میں، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ بائیو ٹیکسٹائل پہلے طبی یا صنعتی آلات میں استعمال ہوں گے، جس کے بعد یہ عام صارفین کے لیے دستیاب ہوں گے۔