حیدرآباد کے علاقے سائٹ میں ایک sealed oil factory operating secretly کو حکام نے دوبارہ سیل کر دیا ہے، جو پہلے سے سیل ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پر مرغی کے تلف شدہ فضلے سے کھانے کا تیل تیار کر رہی تھی۔
یہ فیکٹری صحت کے لیے کیوں خطرناک ہے؟
یہ مینوفیکچرنگ یونٹ پہلے بھی فوڈ قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر بند کیا گیا تھا۔ تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ یہ فیکٹری مقامی مارکیٹوں سے مرغی کا فضلہ، بشمول اوجھڑی اور پر، اکٹھا کر کے اس سے ناقص معیار کا تیل نکال رہی تھی۔ یہ زہریلا مواد ریفائن کر کے عام صارفین کو فروخت کیا جا رہا تھا، جو حیدرآباد کے شہریوں کی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
ابتدائی کارروائی کے باوجود، فیکٹری مالکان نے سرکاری مہروں کو نظر انداز کر کے خفیہ طور پر دوبارہ کام شروع کر دیا تھا۔ جب تک حکام نے چھاپہ مارا، یہ یونٹ خاموشی سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھا۔ اس طرح کے بائیولوجیکل فضلے سے بننے والا تیل پیٹ کی سنگین بیماریوں اور فوڈ پوائزننگ کا باعث بن سکتا ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
ایک ذمہ دار شہری کے طور پر، آپ کو اپنی صحت کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں:
- کھلے یا بغیر لیبل والے تیل کی خریداری سے گریز کریں۔
- خریدے گئے تیل کے پیکٹ پر سندھ فوڈ اتھارٹی (SFA) کی تصدیق ضرور چیک کریں۔
- اگر آپ کو اپنے علاقے میں ایسی کوئی مشکوک فیکٹری نظر آئے تو فوری طور پر متعلقہ فوڈ اتھارٹی کو اطلاع دیں۔
- ہمیشہ معروف برانڈز کا انتخاب کریں جو معیار کی ضمانت دیتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
اس تازہ ترین کارروائی کے بعد، توقع ہے کہ فوڈ اتھارٹی سائٹ ایریا میں قائم دیگر صنعتی یونٹس کی نگرانی سخت کرے گی۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ سیل شدہ فیکٹری کو دوبارہ کھولنے والے مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ فیکٹری کے مکمل خاتمے اور قانونی پیش رفت پر نظر رکھیں۔ ہم اس کیس سے متعلق مزید پیش رفت پر آپ کو آگاہ کرتے رہیں گے۔
