فوجی ہیلی کاپٹرز کی مدد سے سرچ ٹیموں نے بدھ کے روز معروف برطانوی-نیپالی کوہ پیما نرمل پورجا اور تین دیگر لاپتہ کوہ پیمائوں کی لاشیں پاکستان کی ایک بلند چوٹی سے برآمد کر لیں۔ یہ کارروائی شمالی پہاڑوں میں جاری ایک کٹھن ریسکیو آپریشن کا حصہ تھی جو کوہ پیمائوں سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ انتہائی خراب موسمی حالات کے باوجود زمینی اور فضائی ٹیموں نے جائے وقوعہ تک رسائی حاصل کی۔ نرمل پورجا اور دیگر ساتھیوں کی لاشیں ملنے سے ملک کے بلند ترین پہاڑی سلسلے میں جاری حالیہ سیزن کا ایک بڑا المیہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو آپریشن کی تفصیلات اور بدھ کی کارروائی
اس مربوط تلاش کی کارروائی میں آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز اور مقامی ماہر کوہ پیماؤں نے حصہ لیا۔ حکام نے تصدیق کی کہ بدھ کے روز فضائی سروے کے دوران لاشیں دیکھی گئیں جس کے بعد زمینی ٹیموں کو متعلقہ مقام پر اتارا گیا۔ اتنی بلندی سے لاشوں کو نکالنا انتہائی خطرے کا کام ہے جس کے لیے بہترین موسمی صورتحال کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ مرنے والوں کے لواحقین کو سفارتی ذرائع سے اطلاع دے دی گئی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ واپسی کے انتظامات میں مصروف ہے۔
کوہ پیمائی کی حفاظت سے متعلق اہم معلومات
پاکستان کے شمالی پہاڑ ہر سال سیکڑوں غیر ملکی کوہ پیمائوں اور مقامی ٹریکرز کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ تاہم سات ہزار میٹر سے زائد بلندی پر اچانک برفانی طوفان، تودے گرنا اور گلیشیئرز کے شگاف مستقل خطرات پیدا کرتے ہیں۔ وزارت سیاحت کی شرط ہے کہ تمام غیر ملکی مہم جو مقامی رجسٹرڈ ایجنسیوں کے ذریعے اجازت نامہ حاصل کریں۔ اگر آپ گلگت بلتستان میں کسی ٹریکنگ یا کوہ پیمائی کا ارادہ رکھتے ہیں تو روانگی سے قبل پاکستان الپائن کلب اور مقامی انتظامیہ سے لازمی رابطہ کریں۔
آگے کیا ہوگا
متعلقہ حکام اس حادثے کی اصل وجوہات کے حوالے سے رواں ہفتے کے آخر تک تفصیلی رپورٹ جاری کریں گے۔ دوسری طرف محکمہ موسمیات نے بلند گزرگاہوں کے لیے الرٹ جاری کیا ہے اور جاری مہمات کو موسم بہتر ہونے تک عارضی طور پر روکنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت بلند چوٹیوں کے لیے اجازت ناموں کے قوانین کا از سر نو جائزہ لے رہی ہے جس کے بعد بیس کیمپوں پر حفاظتی جانچ پڑتال مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔
