سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ای ایس سی پی) نے ملک میں کارپোরেٹ ڈیٹ مارکیٹ کو وسعت دینے اور طویل مدتی مالی اعانت کے راستے کی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے ایک خصوصی 12 رکنی ورکنگ گروپ تشکیل دے دیا ہے۔ کراچی، لاہور اور فیصل آباد جیسے بڑے تجارتی شہروں میں کاروبار کرنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ بینکوں سے قرض کا حصول کتنا پیچیدہ اور مہنگا عمل ہے۔ کمرشل بینکوں کی جانب سے زیادہ شرح سود اور بھاری ضمانتوں کے مطالبے کی وجہ سے کمپنیاں اپنے توسيعی منصوبوں کے لیے مشکلات کا شکار رہتی ہیں، جبکہ بانڈز یا سکوک کے ذریعے براہ راست سرمائے کا حصول بھی طویل کاغذی کارروائی کا شکار رہا ہے۔
کارپোরেٹ ڈیٹ مارکیٹ میں اصلاحات کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
اب تک پاکستان کا مالیاتی نظام زیادہ تر حکومتی قرضوں یا روایتی بینکنگ پر انحصار کرتا آیا ہے۔ کارپوریٹ بانڈز کے اجرا میں ریگولیٹری تاخیر، ڈبل ٹیکسیشن کے مسائل اور سخت شرائط کی وجہ سے عام کمپنیاں اس مارکیٹ کا رخ کرنے سے کتراتی ہیں۔ اس نئے ورکنگ گروپ کا بنیادی مقصد ان تمام رکاوٹوں کا جائزہ لینا ہے تاکہ کمپنیوں کے لیے بانڈز جاری کرنا آسان اور سستا بنایا جا سکے۔ اس سے نہ صرف نجی شعبے کو سستا سرمایہ ملے گا بلکہ میوچل فنڈز اور انشورنس کمپنیوں جیسے اداروں کے پاس سرمایہ کاری کے لیے بہتر متبادل بھی آئیں گے۔
ورکنگ گروپ کی اہم ذمہ داریاں
- بانڈز کے اجرا اور پرائیویٹ پلیسمنٹ کے عمل کو آسان بنانا۔
- ٹیکس سے متعلق ان خامیوں کو دور کرنا جو کارپوریٹ بانڈز کی تجارت میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
- ثانوی مارکیٹ (سیکنڈری مارکیٹ) میں لیکویڈیٹی بہتر بنانا تاکہ سرمایہ کار آسانی سے خرید و فروخت کر سکیں۔
- قانونی اور مشاورتی اخراجات کم کرنے کے لیے ایک جیسے ضابطے تیار کرنا۔
آپ کو اب کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ کسی کارپোরেٹ ادارے میں فنانس مینیجر ہیں یا مستقبل میں اپنے کاروبار کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو ای ایس سی پی کی آنے والی تجاویز پر نظر رکھیں۔ کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی بیلنس شیٹ اور کریڈٹ ریٹنگ کو بہتر رکھیں تاکہ ریگولیٹری آسانیاں ملتے ہی وہ مارکیٹ سے فوری طور پر فنڈز اکٹھے کر سکیں۔ عام سرمایہ کاروں کو بھی چاہیے کہ وہ میوچل فنڈز میں فکسڈ انکم کیٹیگری کی کارکردگی پر نظر رکھیں کیونکہ کارپوریٹ ڈیٹس کی بہتری سے ان کے منافع پر اثر پڑ سکتا ہے۔
آئندہ چند ماہ میں کیا توقع کی جائے؟
یہ ورکنگ گروپ اپنی سفارشات رواں مالی سال کے اختتام سے پہلے ای ایس سی پی بورڈ کو پیش کرے گا۔ اصل امتحان اس بات کا ہوگا کہ آیا حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) ان ٹیکس رکاوٹوں کو ختم کرنے پر رضامند ہوتے ہیں یا نہیں جنہوں نے ماضی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کارپوریٹ بانڈز کے کاروبار کو محدود رکھا تھا۔
