سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ بلوچستان آپریشن 'رد الفتنہ III' کا حصہ ہے جس کا مقصد صوبے بھر میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔

بلوچستان آپریشن کی تفصیلات

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں ضلع واشک اور مستونگ کے مختلف علاقوں میں کی گئیں۔ ان کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد بھارت کی زیرِ سرپرستی پاکستان میں بدامنی پھیلانے اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور ان کی نقل و حرکت کو ناکام بنایا۔

فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی

حکام کا کہنا ہے کہ فتنہ الہندوستان نامی تنظیم خطے میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی ذمہ دار ہے۔ مستونگ اور واشک جیسے علاقوں میں کی گئی یہ کارروائی ان عناصر کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ سیکیورٹی فورسز کا عزم ہے کہ ملک دشمن عناصر کے ان نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔

مقامی شہریوں کے لیے پیغام

مستونگ اور واشک کے مقامی رہائشیوں کو چاہیے کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں۔ سیکیورٹی آپریشنز کے دوران علاقے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

آگے کیا ہوگا؟

آنے والے دنوں میں رد الفتنہ III کے تحت مزید کلیئرنس آپریشنز متوقع ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (ISPR) کی جانب سے مزید تفصیلات جاری کیے جانے کا امکان ہے، جن میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی شناخت اور ان کے غیر ملکی روابط کے بارے میں مزید حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔ حکومت کا موقف واضح ہے کہ ملک کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔