سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے خلاف جاری بلوچستان آپریشن (آپریشن رد الفتنہ 3) کے دوران ایک اہم کارروائی میں پانچ دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پنجگور کے علاقوں سرکینی اور چھیدگی میں کیا گیا، جس کے دوران سکیورٹی فورسز نے بڑی کامیابی حاصل کی۔
بلوچستان آپریشن کی تفصیلات
حکام کے مطابق، مصدقہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سکیورٹی فورسز نے ان علاقوں کا محاصرہ کیا جہاں دہشتگرد موجود تھے۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران فتنہ الہندوستان کا ایک اہم سرغنہ بھی اپنے چار ساتھیوں سمیت ہلاک ہوا۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور دیگر سامان برآمد کیا ہے، جس میں درج ذیل اشیاء شامل ہیں:
- چار عدد موٹر سائیکلیں جو دہشتگرد نقل و حرکت کے لیے استعمال کر رہے تھے
- جدید مشین گنز
- بھاری مقدار میں گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد
امن و امان کی صورتحال
اس کارروائی کو علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سرغنہ کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی سے پنجگور کے گردونواح میں دہشتگردوں کی نیٹ ورکنگ اور ان کی کارروائی کرنے کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کسی بھی غیر معمولی نقل و حرکت کی اطلاع فوری طور پر قریبی سکیورٹی چوکیوں کو دیں۔
آئندہ کے اقدامات
سرکینی اور چھیدگی میں کامیابی کے بعد، سکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں کومبنگ آپریشنز میں تیزی لائے جانے کا امکان ہے۔ انٹیلی جنس ادارے برآمد شدہ سامان اور دستاویزات کی مدد سے دہشتگردوں کے سہولت کاروں اور ان کے نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عوام کو چاہیے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع (ISPR) سے ملنے والی اطلاعات پر ہی اعتماد کریں اور کسی بھی قسم کی افواہوں سے گریز کریں۔ حکومت کا عزم ہے کہ بلوچستان سے دہشتگردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور ریاست کی رٹ کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔
