بھارتی حکام نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کی ساتویں برسی کے موقع پر بدھ کو سخت سیکیورٹی اور کرفیو نما پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔ ہماچل پردیش کے گورنر اور سابق نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا سمیت کئی بھارتی عہدیداروں نے 2019 کے آئینی اقدام کو انضمام اور ترقی کا نیا دور قرار دیا۔ دوسری جانب، وادی کے عام رہائشیوں کو سخت نقل و حرکت کی پابندیوں، چیک پوسٹوں اور نگرانی کا سامنا کرنا پڑا تاکہ کسی بھی قسم کے احتجاج کو روکا جا سکے۔

وادی میں کڑی سیکیورٹی اور ناکہ بندی

سری نگر اور دیگر اضلاع میں سیکیورٹی فورسز نے کثیر جہتی ناکے لگائے، خاردار تاریں بچھائیں اور فوج کی اضافی نفری تعینات کی۔ مقامی ذرائع کے مطابق عوامی اجتماعات پر سخت پابندی عائد کی گئی اور کئی علاقوں میں انٹرنیٹ کی رفتار بھی سست کر دی گئی۔ حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ جابرانہ ہتھکنڈے کشمیریوں کے روزمرہ معمولات کا حصہ بن چکے ہیں۔

سیاسی بیانیہ بمقابلہ زمینی حقائق

اگرچہ نئی دہلی اور شملہ کے حکام اقتصادی ترقی اور مساوات کے دعوے کر رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق بالکل مختلف ہیں۔ سول سوسائٹی کے مطابق مقامی جمہوریت معطل ہے، میڈیا کی آزادی سلب ہے اور فوجی اہلکاروں کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں۔ کشمیری عوام کے لیے ان سات سالوں میں خوشحالی کی بجائے معاشی غیر یقینی، زمینوں کے حقوق کا خوف اور محرومی کا احساس بڑھا ہے۔

پاکستانی مبصرین کے لیے نظر رکھنے کے قابل امور

اسلام آباد نے ہمیشہ اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے ساتھ ساتھ پاکستانی پالیسی ساز اس صورتحال پر بین الاقوامی سطح پر سفارتی ردعمل کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیادی ترجیح ہے۔