سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے داخلہ نے tobacco smuggling in pakistan (پاکستان میں تمباکو کی اسمگلنگ)، صحافتی آزادی کی خلاف ورزیوں اور اربوں روپے کے ٹیکس چوری کے اسکینڈلز کے خلاف ایک جامع جائزے کا آغاز کیا ہے۔ جمعہ، 1 نومبر 2024 کو ہونے والے اس اہم اجلاس میں پارلیمانی پینل نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ٹیکس حکام کو ان غیر قانونی نیٹ ورکس کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی ہدایت کی جو قومی خزانے کو سالانہ سینکڑوں ارب روپے کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔

اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کمیٹی کے ارکان نے اسمگل شدہ سگریٹ اور ٹیکس چوری کرنے والے مقامی مینوفیکچرنگ یونٹس کی بے لگام ترقی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ پینل نے صحافیوں کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات پر بھی بات کی اور طاقتور اسمگلنگ کارٹلز کے خلاف تحقیقاتی رپورٹنگ اور میڈیا پروفیشنلز کی ہراسگی کے واقعات کے درمیان براہ راست تعلق کو اجاگر کیا۔

سینیٹ جائزے کے اہم حقائق

- اجلاس کی تاریخ: جمعہ، 1 نومبر 2024
- اہم ایجنڈا: تمباکو کی اسمگلنگ، اربوں روپے کی ٹیکس چوری، ڈیوٹی چھوٹ کے قوانین کا غلط استعمال، اور صحافتی آزادی۔
- طلب کیے گئے اہم ادارے: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، وزارت داخلہ، اور صوبائی پولیس کے شعبے۔
- سالانہ ٹیکس کا تخمینہ نقصان: غیر قانونی تمباکو کی تجارت کی وجہ سے 300 ارب روپے سے زائد۔
- آفیشل ٹیکس پورٹل: شہری ٹیکس چوری کی اطلاع براہ راست fbr.gov.pk پر دے سکتے ہیں۔

پاکستان میں تمباکو کی اسمگلنگ کا معاشی نقصان

سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے اس بات پر گہری توجہ مرکوز کی کہ کس طرح غیر قانونی تمباکو نیٹ ورکس قومی ٹیکس نظام کو بائی پاس کرتے ہیں۔ پاکستان میں قانونی مینوفیکچررز پر بھاری فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) اور سیلز ٹیکس لاگو ہیں، جن میں حالیہ وفاقی بجٹ میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔ تاہم، غیر قانونی آپریٹرز سرحدوں کے ذریعے غیر ملکی برانڈز اسمگل کرتے ہیں یا لازمی ایف بی آر ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکس سٹیمپ لگائے بغیر مقامی طور پر سگریٹ تیار کرتے ہیں۔

یہ متوازی معیشت تیزی سے پھیلی ہے۔ انڈسٹری کے تخمینے بتاتے ہیں کہ غیر قانونی سگریٹ اب پاکستانی مارکیٹ کے تقریباً 40 سے 50 فیصد حصے پر قابض ہیں۔ ذیلی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ یہ بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری ملک کے معاشی استحکام کو براہ راست نقصان پہنچاتی ہے، جس کے نتیجے میں حکومت کو ریونیو کے اہداف پورے کرنے کے لیے تنخواہ دار طبقے اور قانون پسند کاروباری اداروں پر زیادہ ٹیکس لگانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

اس کے تدارک کے لیے پینل نے ایف بی آر اور بارڈر سیکیورٹی فورسز کو اسمگل شدہ سگریٹ ذخیرہ کرنے والے گوداموں کے خلاف مشترکہ آپریشن شروع کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اس بات پر بھی تفصیلی رپورٹ طلب کی کہ تمام مینوفیکچرنگ یونٹس، بالخصوص آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو مکمل طور پر نافذ کیوں نہیں کیا جا سکا۔

صحافتی آزادی اور صحافیوں کا تحفظ

معاشی نقصانات کے علاوہ، سینیٹ پینل نے اجلاس کا ایک بڑا حصہ صحافتی آزادی اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے وقف کیا۔ پاکستان میں تحقیقاتی رپورٹرز کو اسمگلنگ نیٹ ورکس، زمینوں پر قبضے اور ٹیکس فراڈ کو بے نقاب کرنے پر شدید انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کمیٹی نے میڈیا ورکرز کے خلاف ہراسگی، دھمکیوں اور جسمانی تشدد کے کئی زیر التوا کیسز کا جائزہ لیا۔ سینیٹرز نے اس بات پر زور دیا کہ کرپشن کو بے نقاب کرنے اور ریاستی اداروں کو جوابدہ بنانے کے لیے آزاد پریس ناگزیر ہے۔ وزارت داخلہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ صوبائی پولیس سربراہان کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ مالیاتی جرائم اور اسمگلنگ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو مناسب سیکیورٹی فراہم کی جائے اور ان پر حملہ کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

ایک شہری کے طور پر، آپ غیر دستاویزی معیشت کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے خلاف آپ درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں:

  • ٹیکس اسٹیمپ کی تصدیق کریں: سگریٹ خریدنے سے پہلے ہمیشہ پیکٹ پر آفیشل ایف بی آر ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکس اسٹیمپ لازمی چیک کریں۔ بغیر اسٹیمپ کے پیکٹ غیر قانونی اور ٹیکس چوری شدہ ہیں۔
  • ٹیکس چوری کی اطلاع دیں: اگر آپ کو اسمگل شدہ سامان فروخت کرنے والے ریٹیل آؤٹ لیٹس یا ٹیکس رجسٹریشن کے بغیر چلنے والی مقامی فیکٹریوں کا علم ہو، تو ایف بی آر کی ہیلپ لائن پر اطلاع دیں یا 'ٹیکس آسان' موبائل ایپ کے ذریعے شکایت درج کرائیں۔
  • آزاد صحافت کی حمایت کریں: مقامی گورننس، ٹیکسیشن اور معاشی جرائم کا احاطہ کرنے والے معتبر اور آزاد نیوز ذرائع کے ذریعے باخبر رہیں۔

آگے کیا دیکھنا ہے

آنے والے ہفتوں میں، ایف بی آر کی تعمیل کی رپورٹوں پر نظر رکھیں۔ سینیٹ پینل نے سرحدی نفاذ اور غیر قانونی مینوفیکچرنگ یونٹس کی بندش کے حوالے سے پیش رفت رپورٹ طلب کی ہے۔

آپ کو آنے والے قانون سازی کے سیشنز پر بھی نظر رکھنی چاہیے، جہاں قانون ساز اسمگل شدہ تمباکو فروخت کرنے والے دکانداروں کے لیے سخت سزائیں متعارف کروا سکتے ہیں۔ مزید برآں، صوبائی سطح پر صحافیوں کے لیے حفاظتی پروٹوکول کا نفاذ یہ ظاہر کرے گا کہ آیا حکومت واقعی صحافتی آزادی کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے یا نہیں۔