پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کی افادیت کا جائزہ

پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی (PCCA) اس وقت شدید تنقید کی زد میں ہے کیونکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی نے اس کے وجود کی ضرورت پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ اجلاس کے دوران، کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ آیا اتھارٹی کا موجودہ مینڈیٹ اور اس کے کام کرنے کا طریقہ کار ملک کی ہنگامی ماحولیاتی ضروریات سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔

قانون ساز اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا پی سی سی اے، جسے ماحولیاتی لچک اور پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے قائم کیا گیا تھا، نے واقعی اپنے اہداف حاصل کیے ہیں یا یہ صرف ایک اضافی بیوروکریٹک بوجھ بن چکا ہے۔ کمیٹی کی تحقیقات کا مرکز اس بات پر ہے کہ آیا اتھارٹی کے فرائض اور وزارت برائے ماحولیاتی تبدیلی کے کردار میں تضاد پایا جاتا ہے۔

مینڈیٹ کا جائزہ کیوں لیا جا رہا ہے؟

کئی سالوں سے، پی سی سی اے کو قومی ماحولیاتی پالیسیوں کو مربوط کرنے کا کام سونپا گیا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شدید موسمی واقعات کے خطرات کے باوجود پیشرفت بہت سست ہے۔ سینیٹ کمیٹی جن اہم نکات کا جائزہ لے رہی ہے ان میں درج ذیل شامل ہیں:

  • پی سی سی اے اور وفاقی وزارت کے انتظامی کاموں میں تکرار۔
  • ماحولیاتی تخفیف کے منصوبوں کے بارے میں واضح نتائج کا فقدان۔
  • قومی خزانے پر بوجھ جو ایسی اتھارٹی کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے جو شاید پہلے سے موجود محکموں کے کام ہی کر رہی ہے۔

سینیٹر شیری رحمان نے زور دیا کہ پارلیمنٹ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ عوامی فنڈز ایسی تنظیموں میں ضائع نہ ہوں جو ٹھوس ماحولیاتی حل فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ کمیٹی اب اتھارٹی کے اصل قانونی ڈھانچے کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا اس میں ترامیم کی ضرورت ہے یا اسے ختم کر کے ماحولیاتی گورننس کو بہتر بنایا جائے۔

ماحولیاتی پالیسی پر اثرات

اگر پی سی سی اے کو تحلیل کیا جاتا ہے یا اس کی تنظیم نو کی جاتی ہے، تو یہ پاکستان کی ماحولیاتی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی ہو گی۔ حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ وہ صرف دکھاوے کے لیے ادارے نہیں بنا رہی بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں، جیسے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور مون سون کے غیر متوقع چکروں سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ ہے، جنہوں نے حالیہ برسوں میں زرعی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

عام شہری کے لیے، ان اداروں کی کارکردگی براہ راست آفات سے نمٹنے کی تیاریوں اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر اتھارٹی غیر مؤثر ثابت ہوتی ہے، تو سینیٹ کمیٹی اس کے بجٹ کو براہ راست زمینی سطح پر کام کرنے والے پروگراموں میں منتقل کرنے کی سفارش کر سکتی ہے۔

سینیٹ کمیٹی کے اگلے اقدامات

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے وزارت برائے ماحولیاتی تبدیلی سے اتھارٹی کی کارکردگی کے اعداد و شمار پر تفصیلی بریفنگ طلب کی ہے۔ توقع ہے کہ کمیٹی آئندہ چند ہفتوں میں دوبارہ اجلاس کرے گی تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آیا قانون سازی کے ذریعے اصلاحات کی جائیں یا اس ادارے کو ختم کرنے کی جانب قدم بڑھایا جائے۔ فی الحال، پی سی سی اے کا مستقبل غیر یقینی ہے اور اس کی قیادت کو پارلیمانی کمیٹی کے سامنے اپنے وجود کا جواز پیش کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔