سینٹ ہاؤس کمیٹی نے بدھ 11 فروری 2026 کو اسلام آباد میں جاری پارلیمنٹ لاجز پروجیکٹ کے تحت زیر تعمیر 104 نئے رہائشی یونٹس کے سست رفتار کام اور تعمیراتی معیار پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ عوامی فنڈز سے بننے والے اس اہم منصوبے کی رفتار انتہائی مایوس کن ہے اور کام کا صرف ایک مخصوص حصہ ہی مکمل ہو سکا ہے۔
قانون ساز طویل عرصے سے وفاقی دارالحکومت میں اپنے دورے کے دوران رہائش کے مسائل حل کرنے کے لیے ان لاجز کے منتظر ہیں۔ تاہم تازہ ترین اجلاس اور بریفینگ نے تعمیراتی کام میں حائل رکاوٹوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
تعمیراتی معیار اور تاخیر پر سوالات
اسلام آباد میں ارکان پارلیمنٹ کے لیے 104 نئے رہائشی کوارٹرز کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ بدھ 11 فروری 2026 کو ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے نشاندہی کی کہ منصوبے کا تقریباً 20 فیصد کام سست روی کا شکار ہے اور متعلقہ حکام مقررہ مدت میں ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ سینیٹرز نے استعمال ہونے والے میٹریل کے معیار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
جب بھی دارالحکومت میں قومی خزانے سے بڑے منصوبے شروع کیے جاتے ہیں، عوام شفافیت اور وقت پر تکمیل کی توقع رکھتے ہیں۔ کمیٹی نے متعلقہ اداروں سے تمام اخراجات، خریداری کے ریکارڈ اور نظرثانی شدہ ڈیڈ لائن کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
ارکان پارلیمنٹ کو درپیش رہائشی مسائل
مناسب رہائش نہ ہونے کی وجہ سے مختلف صوبوں سے آنے والے ارکانِ اسمبلی کو مجبورا عیسائی یا نجی ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں قیام کرنا پڑتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد آئین ایونیو کے قریب محفوظ اور مستقل رہائش فراہم کرنا تھا۔ کام میں مسلسل تاخیر کی وجہ سے خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں کو اسلام آباد میں اجلاسوں کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آئندہ کیا متوقع ہے؟
شہریوں اور مبصرین کو اب پارلیمانی کمیٹی کے اگلے اجلاس پر نظر رکھنی چاہیے جہاں پراجیکٹ ڈائریکٹرز اور انجینئرز کو طلب کیا گیا ہے۔ سینٹ کے فورم نے اگلے دو ہفتوں کے اندر میٹریل کے معیار اور کام کی رفتار سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ اگر ٹھकेदार نے معیار کو بہتر کیے بغیر کام تیز نہ کیا تو ذمہ دار کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
پاکستان بھر کے سرکاری انفراسٹرکچر منصوبوں کی تازہ ترین صورتحال جاننے کے لیے nayapakistan.pk کے ساتھ جڑے رہیں۔
