سینئر فوٹو صحافی سید اکرام مہدی کراچی میں انتقال کر گئے ہیں، جو پاکستانی میڈیا انڈسٹری کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور بے مثال لگن کے لیے جانے جانے والے اکرام مہدی نے کیمرے کی آنکھ سے ملک کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی تاریخ کے کئی اہم ابواب کو محفوظ کیا۔ ان کے اس دنیائے فانی سے کوچ کر جانے پر ملک بھر کے صحافیوں، پریس ایسوسی ایشنز اور سول سوسائٹی کے ارکان کی طرف سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

لینس کے پیچھے ایک طویل سفر

سینئر فوٹو صحافی اکرام مہدی کی پیشہ ورانہ زندگی کا جائزہ لیا جائے تو ان کا کام محض تصاویر کا مجموعہ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی تاریخ کا ایک تصویری ریکارڈ تھا۔ کراچی میں مقیم رہتے ہوئے انہوں نے ملک کی تقدیر بدلنے والے اہم لمحات کو کیمرے کی قید میں بند کیا۔ وہ چاہے ہنگامہ خیز سیاسی جلسے ہوں یا سڑکوں پر بکھری عام زندگی کی کہانیاں، موصوف نے ہمیشہ اپنے کام میں اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھا۔ ان کے ساتھی آج بھی یاد کرتے ہیں کہ وہ شور شرابے اور افراتفری کے عالم میں بھی کس طرح پرسکون رہتے ہوئے بہترین شاٹس نکال لیتے تھے۔

  • پیشہ ورانہ سنگ میل: اہم نیوز رومز میں طویل اور شاندار خدمات۔
  • مرکز: کراچی، جہاں سے انہوں نے ملکی اور مقامی خبروں کی کوریج کی۔
  • ورثہ: فوٹو صحافت کے شعبے میں نوجوان نسل کی تربیت۔

میڈیا حلقوں کی طرف سے تعزیت کا اظہار

ان کے انتقال کی خبر کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے پریس کلبوں میں تیزی سے پھیلی، جس پر صحافتی تنظیموں نے فوری طور پر تعزیت کا اظہار کیا۔ مختلف پریس کلبوں کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ سید اکرام مہدی نے پاکستان میں فوٹو صحافت کے معیار کو اس وقت بلند کیا جب اس پیشے کو بے پناہ تکنیکی اور عملی مشکلات کا سامنا تھا۔ تعزیت کے لیے منعقدہ مجالس میں ان کی عاجزی، جونیئر رپورٹرز کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کرنے کی عادت اور سچی تصویر کشی کے جذبے کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا گیا۔

آپ کیا کر سکتے ہیں

اگر آپ میڈیا کمیونٹی کا حصہ ہیں یا آپ ان کے طویل پبلش شدہ کام سے متاثر رہے ہیں، تو آپ آن لائن تعزیتی گروپس میں شامل ہو سکتے ہیں یا ان کے یادگاری لمحات کو سوشل میڈیا پر شیئر کر سکتے ہیں۔ کراچی کے مقامی پریس کلب مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائیہ تقریبات اور تعزیت ریفرنسز کا اہتمام کر رہے ہیں۔ نمازِ جنازہ اور تعزیت کے اوقات کے لیے اپنے قریبی پریس کلب کے اعلانات یا تصدیق شدہ صحافتی نیٹ ورکس سے رجوع کریں۔

آگے کیا متوقع ہے

مشیختِ صحافت کی اس عظیم شخصیت کے سوگ میں، توقع کی جا رہی ہے کہ انڈسٹری کے رہنما ان کے نام سے کسی سالانہ فوٹوگرافی گرانٹ یا بعد از مرگ اعزاز کا اعلان کریں گے تاکہ پاکستان میں نئے ویژول جرنلسٹس کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ اہم پریس ایسوسی ایشنز کی جانب سے سکالرشپ فنڈز یا ان کی تاریخی تصاویر پر مبنی یادگاری نمائشوں کے حوالے سے آنے والے دنوں میں مزید اپڈیٹس متوقع ہیں۔ خاندان اور قریبی دوست آنے والے دنوں میں یادگاری تقریبات کی تفصیلات بھی شیئر کریں گے۔