قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے شمالی علاقوں کا رخ کرنے والے تمام سیاحوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ تفریحی مقامات کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوں لیکن وہاں کچرا ہرگز نہ پھیلائیں۔

شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ شمالی علاقہ جات ہمارے ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، اور وہاں جا کر پلاسٹک کی بوتلیں، شاپنگ بیگز اور دیگر کوڑا کرکٹ پھینکنا نہ صرف ماحول کو تباہ کرتا ہے بلکہ مقامی علاقوں کے حسن کو بھی گہنا دیتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر سے لاکھوں سیاح گرمیوں اور تعطیلات کے موسم میں پہاڑی مقامات کا رخ کرتے ہیں۔

عملی اقدامات اور ویڈیو کا پس منظر

شاہد آفریدی نے محض زبانی کلامی پیغام دینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مختلف سیاحتی مقامات پر خود جاکر صفائی مہم میں حصہ لیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں شاہد آفریدی کو خود ہاتھ سے کچرا اٹھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے تاکہ عوام میں یہ شعور بیدار کیا جا سکے کہ صفائی کا خیال رکھنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

ماحولیاتی ماہرین نے شاہد آفریدی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ نامور شخصیات کی جانب سے اس طرح کے مثبت پیغامات سے عام شہریوں میں ذمہ دارانہ رویے فروغ پاتے ہیں۔ سیاحتی مقامات پر صفائی کے ناقص انتظامات اور سیاحوں کی لاپرواہی کی وجہ سے مقامی انتظامیہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شمالی علاقوں میں بڑھتی ہوئی آلودگی

ناران، کاغان، سوات، ہنزہ اور مری جیسے خوبصورت مقامات پر ہر سال سیزن کے دوران لاکھوں کی تعداد میں گاڑیاں داخل ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے سیاحوں کی بڑی تعداد وہاں کھانے پینے کی اشیاء کے لفافے اور پلاسٹک کی بوتلیں کھلے عام پھینک دیتی ہے، جس سے نہ صرف قدرتی مناظر خراب ہوتے ہیں بلکہ مقامی ندی نالے بھی آلودہ ہوجاتے ہیں۔

اگر سیاحوں نے فوری طور پر اپنے رویے میں تبدیلی نہ کی تو یہ حسین وادی اپنی اصل خوبصورتی اور قدرتی توازن کھو بیٹھتی ہے۔ مقامی انتظامیہ اکثر سیاحوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ کوڑا اٹھانے والے تھیلے رکھیں تاکہ ماحول کو صاف رکھا جا سکے۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ بھی شمالی علاقوں کے سفر کا ارادہ رکھتے ہیں تو درج ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں:

  • اپنے ساتھ گاڑی یا بیگ میں کوڑا دان والا ایک اضافی تھیلا ضرور رکھیں جس میں تمام کچرا اکٹھا کیا جا سکے۔
  • سفر کے دوران چلتی گاڑی سے کھڑکی سے باہر پلاسٹک یا کاغذ ہرگز نہ پھینکیں۔
  • مقامی دکانداروں سے ماحول دوست لفافے استعمال کرنے کی درخواست کریں اور جہاں تک ہو سکے پلاسٹک کے استعمال سے گریز کریں۔
  • اگر آپ کو کہیں پہلے سے پڑا ہوا کچرا نظر آئے تو اسے اٹھا کر مناسب ڈسٹ بن میں ڈالنے کی کوشش کریں۔

آئندہ کیا متوقع ہے؟

گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کی انتظامیہ اب سیاحتی مقامات پر پلاسٹک کے استعمال پر مکمل پابندی اور سخت جرمانے عائد کرنے کے قانون پر سختی سے عمل درآمد کرانے کا سوچ رہی ہے، اس لیے سفر سے پہلے مقامی قوانین سے آگاہ رہیں۔