جب بھی مشرق وسطیٰ میں آگ لگتی ہے، اس کی لپیٹ سب سے پہلے آپ کے اور میرے کچن اور بائیک کے ٹینک تک پہنچتی ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اچھل کر 126 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہیں کیونکہ ایران کے ساتھ کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ اس جنگی صورتحال نے امریکی شیل آئل پروڈیوسرز کی چاندی کر دی ہے، جن کے منافعے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ لیکن اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ پٹرول قیمت میں پاکستان کے اندر بڑا اضافہ اب صرف چند دنوں کی بات ہے۔
پٹرول قیمت میں اضافے کا اثر آپ کے بٹوے پر
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ جب عالمی سطح پر تیل مہنگا ہوتا ہے تو حکومت اور اوگرا کے پاس قیمتیں بڑھانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔ اب جب کہ امریکی شیل کمپنیاں نئے کنویں کھودنے کے بجائے اپنے حصص یافتگان کو منافع اور بائیک بیکس دینے کو ترجیح دے رہی ہیں، عالمی منڈی میں تیل کی رسد تنگ رہے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ $126 کی یہ قیمتیں عارضی نہیں ہیں بلکہ آنے والے ہفتوں میں یہ آپ کی جیب پر بوجھ بنیں گی۔ لاہور کے رنگ روڈ پر گاڑی چلانا ہو یا کراچی کی حب ریور روڈ پر روزانہ کا سفر، کم آمدنی والے طبقے کے لیے موٹر سائیکل کا پٹرول اب عذاب بنتا جا رہا ہے۔
مہنگائی کی اگلی لہر اور بجلی کے بل
صرف پٹرول نہیں، بلکہ اس بحران کی وجہ سے ملک بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آنے کا خطرہ ہے۔ جب درآمدی ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو پاور پلانٹس کی بجلی بھی مہنگی ہو جاتی ہے۔ نیپرا اور پاور ڈویژن کے فیصلوں کے نتیجے میں بجلی کے فی یونٹ نرخ مزید بڑھ سکتے ہیں۔ سبزیوں سے لے کر آٹے اور دالوں تک، ہر چیز کی نقل و حمل کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔
- ٹرانسپورٹرز کرایوں میں فوری اضافہ کر دیتے ہیں
- درآمدی خام مال مہنگا ہونے سے مقامی فیکٹریاں پیداوار کم کر دیتی ہیں
- عام دکاندار منافع برقرار رکھنے کے لیے اشیائے خوردونخوا کی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اس صورتحال میں آپ کو اپنے مالی معاملات میں فوری احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ غیر ضروری سفر کم کریں اور ممکن ہو تو کار پولنگ یا پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال شروع کریں۔ اپنے گھر کے ماہانہ بجٹ میں ایندھن اور بجلی کے بلوں کے لیے کم از کم پندرہ سے بیس فیصد اضافی رقم مختص کریں۔ کسی بھی بڑے مالی فیصلے یا نئی گاڑی کی خریداری سے پہلے چند ہفتے رک جائیں تاکہ صورتحال واضح ہو سکے۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
آنے والے دنوں میں اوگرا کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان سب سے اہم اشارہ ہوگا۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا حکومت عالمی منڈی میں اضافے کا پورا بوجھ ایک ساتھ صارفین پر ڈالتی ہے یا کوئی ریلیف پیکج دیتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ایران تنازع کا رخ اور اوپیک پلس کے فیصلے وہ دو اہم عوامل ہیں جن پر آپ کو گہری نظر رکھنی چاہیے۔
