شمی کپور، وہ اداکار جس نے پردے پر رقص کو سانس لینے جتنا آسان بنا دیا تھا، 14 اگست 2011 کو ممبئی میں 79 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی فلموں نے پاکستان میں خاص طور پر لاہور اور کراچی میں 1960 اور 70 کی دہائیوں میں لوگوں کو ہنسایا، ناچنے پر مجبور کیا اور دلوں کو مسحور کیا۔ ان کا انداز—ڈھیلے قمیض، تنگ پتلون، آنکھ مچولی اور کولہے کا جھول—ہندی سنیما کے ہیرو کا معیار بن گیا، جو ان کی آخری فلم 1986 کے بعد بھی قائم رہا۔

انھوں نے ہیرو کو زندہ تار بنا دیا تھا۔ شمی کپور سے پہلے ہندی سنیما کے ہیروز یا تو غمگین المیے تھے یا رسمی انداز کے۔ ان کی فلموں جیسے 'جنگلی' (1961)، 'تیسری منزل' (1966) اور 'کشمیر کی کلی' (1964) کے کردار بے ساختہ، توانا اور رومانوی تھے۔ 'جنگلی' میں انھوں نے پہاڑی قبائلی شہزادے کا کردار ادا کیا جو 'یہو!' چلاتے ہوئے پردے پر جادو جگاتے تھے۔ 'کشمیر کی کلی' میں شمیلا ٹگور کے ساتھ ان کی کیمیا نے رومانس کو تازہ اور بجلی سا محسوس کیا۔ پاکستان میں جہاں شاعرانہ ہیروز کا اپنا روایتی انداز تھا، شمی کپور نے ایک نئی قسم کی شخصیت پیش کی—جو بلند، جسمانی اور دلکش تھی۔

رقص کے وہ انداز جو قومی یادگار بن گئے۔ شمی کپور کے رقص کے مناظر محض فلم کے وقفے نہیں تھے؛ وہ چھوٹی انقلابات تھے۔ 'تیسری منزل' میں انھوں نے اشا بھوسلے کے ساتھ ٹائٹل سونگ کو گھومتے ہوئے اسٹیج پر پیش کیا، ان کا جسم بیلن کی طرح گھومتا تھا۔ 'برہماچاری' (1968) میں انھوں نے سینٹا کلاوس کا لباس پہن کر ناچا، یہ ثابت کرتے ہوئے کہ ایک ہیرو مضبوط اور مضحکہ خیز دونوں ہو سکتا ہے۔ 1980 اور 90 کی دہائیوں میں پاکستان کے ٹی وی چینلز ان کے گانوں کو عید کے پروگراموں کے دوران دکھایا کرتے تھے، جس سے ان کے رقص کے انداز گھرانوں کے گانے بن گئے۔ آج بھی شمی کپور اور ہیلن کے 'گمنام' (1965) کے رقص کے مناظر کراچی اور لاہور کے واٹس ایپ گروپس میں گردش کرتے ہیں، اکثر ان کے ساتھ کیپشن لگتی ہے 'دیکھو کیسے ناچتے ہیں—کوئی ایڈیٹنگ، کوئی تار نہیں!'

بے شرمی والا رومانس۔ شمی کپور کا رومانس کبھی شرم سے نہیں بھرا تھا۔ 'جوانی دیوانی' (1972) میں انھوں نے سائرہ بانو کے ساتھ ایک چالاک مسکراہٹ کے ساتھ رومانس کیا جو ایک چیلنج لگتی تھی۔ 'تیسری منزل' میں انھوں نے 'او حسنہ زلفوں والی' گاتے ہوئے چھتوں پر چھلانگ لگائی، جس سے محبت کو ایک مہم کا روپ دے دیا۔ اس دور کے پاکستانی فلمی رسائل جیسے 'فلم آئسیا'، 'سینما' اور 'تنظیم' نے ان کے پردے پر بوسوں اور گلے کے مناظر کے پورے صفحے پر مشتمل مضمون شائع کیے، جنہوں نے ان پڑھ پڑوسیوں کو بھی جرات دی جو مقامی سینما میں اس طرح کی بے باکی کا سامنا نہیں کرتے تھے۔ ان کا رومانس خاموشی سے دکھنے کا نہیں تھا؛ یہ ہنسنے، چھیڑنے اور جیتنے کا تھا۔

افسانے کے پیچھے کا انسان۔ شمسھر راج کپور کے نام سے 21 اکتوبر 1931 کو بمبئی میں پیدا ہوئے، وہ پرتھوی راج کپور کے بیٹے تھے، جو کپور فلمی خاندان کے سربراہ تھے۔ لیکن شمی نے اپنا راستہ خود بنایا۔ انھوں نے 'جیون جوتی' (1953) میں ولن کا کردار ادا کیا، پھر ہدایت کار ناصر حسین نے 'دل دے کے دیکھو' (1959) میں ان کی مزاحیہ صلاحیت کو پہچانا۔ حسین نے انھیں آشا پاریکھ اور ہیلن کے ساتھ جوڑا، جس نے انھیں 1960 کی دہائی کا سب سے کامیاب تریو بنا دیا۔ کپور کا حقیقی کردار—دلکش، فیاض، تھوڑا بے قابو—ان کے پردے کے کردار سے میل کھاتا تھا۔ انھوں نے ایک بار کہا تھا، 'میں اداکاری نہیں کرتا؛ میں بس ردِ عمل دیتا ہوں۔' یہ بے ساختگی ہی ہے جس کی وجہ سے ان کی فلمیں آج بھی زندہ محسوس ہوتی ہیں۔

پاکستانیوں کو اب بھی وہ کیوں پیار کرتے ہیں۔ 1960 اور 70 کی دہائیوں میں لاہور کے المہرا آرٹس کونسل اور کراچی کے سینے ریکس نے تہواروں کے دوران شمی کپور کی فلموں کی باقاعدہ نمائشیں منعقد کیں۔ ان کے پوسٹر راولپنڈی میں رکشوں پر چسپاں کیے جاتے تھے۔ ان کی آواز—ناسک، دلکش—گھروں میں تقلید کے مقابلوں کا حصہ بنتی تھی۔ آج بھی ان کی فلمیں یوٹیوب چینلز جیسے 'بولی ووڈ کلاسکس پاکستان' اور 'دیشی دھماکا' پر لاکھوں مشاہدات کے ساتھ دستیاب ہیں۔ پاکستانی موسیقاروں جیسے عارف Lohar اور ابراہیم الحق نے انھیں اپنے اثر کا ماخذ قرار دیا ہے، جنھوں نے ان کی توانائی کو مقامی لوک انداز کے ساتھ ملا کر پیش کیا۔

شمی کپور نے کیسے کھیل بدلا

- ولن سے ہیرو تک: 'جیون جوتی' (1953) میں منفی کردار سے شروع کر کے 'دل دے کے دیکھو' (1959) میں تفریح کے ہیرو بنے۔
- رقص بطور بغاوت: 'تیسری منزل' اور 'برہماچاری' کے ان کے رقص نے ہیروز کے رسمی انداز کو توڑا۔
- بے شرمی والا رومانس: ان کے پردے پر بوسوں اور گلے کے مناظر اپنے وقت کے لیے بہت جرات مندانہ تھے، خاص طور پر پاکستانی گھروں میں جہاں conservative رویے پائے جاتے تھے۔
- کپور برانڈ: راج کپور اور دیو آنند کے ساتھ مل کر انھوں نے ہندی سنیما کے سنہری دور کے سونے کے تریو کی تشکیل کی۔

پاکستان میں ان کی کلاسک فلمیں کہاں دیکھیں

پاکستانیوں کو شمی کپور کی فلموں کو دوبارہ دیکھنے کے لیے ممبئی جانے کی ضرورت نہیں۔ ان کی فلمیں یہاں دستیاب ہیں:
- یوٹیوب: چینلز جیسے 'بولی ووڈ کلاسکس پاکستان' اور 'دیشی دھماکا' مفت، قانونی اسٹریمز پیش کرتے ہیں۔
- او ٹی ٹی پلیٹ فارمز: زی5 اور ایم ایکس پلیئر نے ان کی ہٹ فلموں کی کیوریٹڈ پلے لسٹیں تیار کی ہیں۔
- ڈی وی ڈی: انارکلی (لاہور) اور برنز روڈ (کراچی) کے مقامی دکانوں پر اصل وی سی ڈی 200–300 روپے میں فروخت ہوتی ہیں۔
- ٹی وی ری رن: جیو ٹی وی اور اے آر وائی ڈیجیٹل کبھی کبھار ان کی فلمیں عید اور گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران دکھاتے ہیں۔

آج آپ کیا کر سکتے ہیں

- کلاسک فلم دیکھیں: آج رات 'کشمیر کی کلی' یا 'جنگلی' دیکھیں—دونوں ایم ایکس پلیئر پر مفت دستیاب ہیں۔
- ان کے رقص سیکھیں: یوٹیوب پر 'شمی کپور ڈانس ٹوٹوریل' تلاش کریں؛ کئی پاکستانی ڈانس کوچز نے ان کے انداز کو توڑا ہے۔
- نوسٹالجیا شیئر کریں: ان کے گانوں کا کوئی کلپ اپنے سوشل میڈیا پر #ShammiKapoorLegacy کے ہیش ٹیگ کے ساتھ پوسٹ کریں—پاکستانی نیٹ زنس اسے پسند کریں گے۔
- سینما ہال جائیں: اگر آپ لاہور میں ہیں تو نئی بحال شدہ سینے ریکس میں ریٹرو اسکریننگز چیک کریں۔

اگلی کیا دیکھیں

- راج کپور کی 'میرا نام جکر' (1970): غم و مسرت کا وہ گہرا احساس جو شمی کپور نے ہنسی کے ساتھ توازن میں رکھا تھا۔
- دیو آنند کی 'گائڈ' (1965): ایک ایسی فلم جو رومانس، رقص اور فلسفے کو ملا کر پیش کرتی ہے—ایسا کچھ جو شمی کپور کی فلموں نے اشارہ کیا تھا۔
- ہیلن کا 'میرا نام چین چین چو' (1977): شمی کپور کی ہم رکاب اور کیباریٹ کی ملکہ جنھوں نے ان کی توانائی کا جواب اسی طرح دیا۔
- پاکستانی خراج تحسین: 'ماولا جٹ' (1979) دیکھیں اور غور کریں کہ سلطان راہی کی جارحانہ شخصیت کس حد تک شمی کپور کے بے خوف ہیرو سے متاثر ہے۔

شمی کپور نے صرف اداکاری نہیں کی؛ وہ پردے پر جیے۔ ان کی فلمیں کہانیاں نہیں تھیں—وہ دعوتیں تھیں ہنسنے، ناچنے اور بغیر خوف کے محبت کرنے کی۔ پاکستان میں جہاں سینما کو سنسرشپ اور تنزلی کا سامنا ہے، ان کی میراث ایک یاد دہانی ہے کہ کبھی کبھی آپ کو صرف تھوڑی سی توانائی، بہت زیادہ دلکشی اور 'یہو!' کہنے کی ہمت چاہیے۔