سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے پاکستان میں سائبر کرائم انویسٹی گیشن کے سلسلے میں حیدرآباد میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے پاس باضابطہ شکایت درج کروا دی ہے۔
این سی سی آئی اے میں شکایت کی تفصیلات
صوبائی وزیر نے کچھ مخصوص سوشل میڈیا صارفین اور اکاؤنٹس کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، جن پر ہتک عزت اور ٹارگٹڈ ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اگرچہ ابھی تک ان اکاؤنٹس کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، لیکن یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ حکومتی عہدیداران اب سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید اور مبینہ مہمات سے نمٹنے کے لیے سخت قانونی راستہ اختیار کر رہے ہیں۔
یہ قدم پاکستان میں سیاسی شخصیات کی جانب سے سوشل میڈیا مواد پر قانونی کارروائی کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ این سی سی آئی اے، جو وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے ماتحت کام کرتی ہے، پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت ہراساں کرنے، نفرت انگیز تقاریر اور ہتک عزت جیسے جرائم کی تحقیقات کی ذمہ دار ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کے لیے ہدایات
یہ شکایت سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی قانونی نگرانی کی ایک کڑی ہے۔ اگر آپ ایکس (ٹوئٹر)، فیس بک یا ٹک ٹاک پر فعال ہیں، تو یہ ضروری ہے کہ آپ آن لائن گفتگو کے قانونی دائرہ کار کو سمجھیں۔
- کسی بھی مواد کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں تاکہ ہتک عزت کے دعووں سے بچا جا سکے۔
- PECA قوانین کا مطالعہ کریں تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ کون سا مواد سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
- عوامی عہدیداران کے خلاف غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں، کیونکہ ایسی پوسٹس پر اب تیزی سے کارروائی کی جا رہی ہے۔
تحقیقات کا اگلا مرحلہ
اب این سی سی آئی اے شکایت میں فراہم کردہ ثبوتوں کا جائزہ لے گی۔ اگر ایجنسی کو ٹھوس شواہد ملتے ہیں، تو متعلقہ اکاؤنٹ ہولڈرز کو نوٹس جاری کیے جا سکتے ہیں۔ اس عمل میں اکاؤنٹ چلانے والے افراد کی شناخت کی جاتی ہے، جس کے بعد باضابطہ انکوائری یا ایف آئی آر کا اندراج ممکن ہوتا ہے۔
سیاسی مبصرین اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ ایجنسی اس معاملے کو کس طرح آگے بڑھاتی ہے اور کیا یہ گمنام اکاؤنٹس کے خلاف وسیع تر کریک ڈاؤن کی شروعات ہے۔
