پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے نتائج پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ ن پر تاریخی دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے متنازع انتخابی نتائج کو فارم 47 پلس کا نام دیتے ہوئے کہا کہ خیراتی مینڈیٹ حاصل کیا گیا ہے جو عوام کی اصل مرزش کی عکاسی نہیں کرتا۔
انتخابی نتائج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ الیکشن کے نتائج کو تاریخ میں ہمیشہ ایک متنازع عمل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ انتخابی نتائج تبدیل کرکے اور ہیر پھیر کے ذریعے حکومتیں تو بنائی جا سکتی ہیں، لیکن عوام کے دلوں میں حقیقی مقبولیت ہرگز حاصل نہیں کی جا سکتی۔
انتخابی نتائج اور الیکشن کمیشن کے اقدامات
ایک طرف جہاں سیاسی جماعتوں کی طرف سے دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں، وہیں الیکشن کمیشن نے اپنے دفتری امور جاری رکھے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے سلسلے میں دو کامیاب امیدواروں کے باضابطہ نوٹیفکیشنز جاری کر دیے ہیں۔ ان میں حلقہ ایل اے 14 باغ اور حلقہ ایل اے 17 حویلی کہوٹہ کے کامیاب امیدوار شامل ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس قسم کے تنازعات سے خطے میں سیاسی استحکام متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ جب اہم سیاسی فریق نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں تو انتظامی اور قانون سازی کے امور پر بھی سوالیہ نشان لگ جاتے ہیں۔ عام شہریوں کے لیے یہ صورتحال اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
آزاد کشمیر کے ان متنازع انتخابی نتائج کے بعد سیاسی درجہ حرارت بلند رہنے کی توقع ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت ان نوٹیفکیشنز کو عدالت میں چیلنج کرتی ہے یا اسمبلی کے اندر بھرپور احتجاج کی حکمت عملی بناتی ہے۔ حلقہ ایل اے 14 باغ اور ایل اے 17 حویلی کہوٹہ کے معاملات پر آئندہ دنوں میں مزید سیاسی ہلچل دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
