سندھ ہائی کورٹ نے پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ (ڈی پی پی) کے ڈائریکٹر یاسین مرتضیٰ کے خلاف جاری ہونے والا توہین عدالت کا نوٹس باضابطہ طور پر واپس لے لیا ہے اور افلاٹوکسن کی سطح سے متعلق نئے معیارات کی روشنی میں اپنے گزشتہ حکم میں ترمیم کر دی ہے۔

جسٹس عدنان اقبال چৌധری اور جسٹس محمد حسن اکبر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کراچی میں اس کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے زرعی درآمدات اور برآمدات میں نقصان دہ مائیکرو ٹاکسن کی قابلِ قبول حد سے متعلق محکمے کی جانب سے پیش کردہ تعمیل رپورٹس اور انتظامی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ترمیمی حکم سے بندرگاہوں اور قرنطینہ مراکز پر ریگولیٹری تعمیل کے حوالے سے درپیش ابہام ختم ہوگا، جو خاص طور پر غلہ اور خوراک کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔

افلاٹوکسن کے نئے معیارات پر عدالت کا فیصلہ

توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز چاول، مکئی اور خشک میوہ جات جیسی زرعی فصلوں پر فنگس سے پیدا ہونے والے خطرناک زہریلے مادے افلاٹوکسن کی سختی سے پابندی اور اس کے نفاذ میں تاخیر یا تنازعات کے باعث کیا گیا تھا۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے تحت کام کرنے والے ریگولیٹری اداروں کے لیے خوراک کی حفاظت اور برآمدی ضوابط ہمیشہ سے ایک حساس معاملہ رہے ہیں۔

سماعت کے دوران بنچ نے تکنیکی ماہرین کی تجویز کردہ اور پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے نافذ کردہ تازہ ترین حد بندیوں کا جائزہ لیا۔ عدالت نے اپنے حکم میں ترمیم کرکے اس بات کو تسلیم کیا کہ کراچی اور سندھ بھر میں بین الاقوامی فوڈ سیفٹی پروٹوکولز اور مقامی تجارتی حقائق کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔

  • عدالتی بنچ: جسٹس عدنان اقبال چৌധری اور جسٹس محمد حسن اکبر
  • مدعاعلیٰ: یاسین مرتضیٰ (ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ)
  • مرکزی مسئلہ: افلاٹوکسن کے نئے معیارات کے مطابق ریگولیٹری نفاذ
  • مقام: کراچی، سندھ

زرعی تجارت پر ممکنہ اثرات

کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر غلہ، تیل کے بیج اور دیگر اشیائے خوروناک کی درآمد و برآمد سے وابستہ تاجروں کو اکثر ٹیسٹنگ کے بدلتے ہوئے پیمانے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عدالتی احکامات کو تسلیم شدہ معیارات کے مطابق ڈھالنے کا مقصد کارگو کی کلیئرنس کے عمل کو آسان بنانا ہے۔

تاجروں کا دیرینہ مؤقف رہا ہے کہ غیر واضح احکامات کی وجہ سے بھاری جرمانے اور شپنگ میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس عدالتی فیصلے سے ریگولیٹری اداروں کو تکنیکی معیارات پر عمل درآمد کے معاملے میں بہتر سمت ملے گی۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ کراچی کے ٹرمینلز کے ذریعے زرعی اجناس کی درآمد یا برآمد سے وابستہ ہیں، تو پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے تسلیم شدہ افلاٹوکسن کی حدود کے مطابق اپنی دستاویزات کا جائزہ لیں۔ بندرگاہ پر تاخیر سے بچنے کے لیے اپنے کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹ یا قانونی مشیر سے لازمی رجوع کریں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے فوڈ سیفٹی ٹیسٹنگ کے پروٹوکولز سے متعلق آنے والے نئے سرکولرز پر نظر رکھیں۔ سندھ ہائی کورٹ کی آئندہ سماعتوں میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ سپلائی چین کو متاثر کیے بغیر ان معیارات پر کس طرح عمل درآمد کرا رہا ہے۔