پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے ملک میں قابل تجدید توانائی کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے بیٹری اسٹوریج، اسمارٹ گرڈز اور تقسیم شدہ توانائی کے ذرائع کی طرف فوری منتقلی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک بھر کے گھروں اور تجارتی اداروں میں چھتوں پر سولر پینلز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن قومی ترسیل کا نظام اس غیر مرکزی بجلی کی اضافی پیداوار کو سنبھالنے کے لیے تیار نہیں۔
صارفین کے لیے بیٹری اسٹوریج کیوں ضروری ہے
مہنگی بجلی اور آئی پی پیز کے ٹیرف سے نجات حاصل کرنے کے لیے گزشتہ دو سالوں کے دوران لاکھوں پاکستانیوں نے سولر سسٹمز نصب کیے ہیں۔ تاہم، نیٹ میٹرنگ کی پالیسیاں اور گرڈ کا استحکام اب دن کے اوقات میں بجلی کی زیادہ پیداوار کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اگر مؤثر گھریلو اور صنعتی بیٹری اسٹوریج سسٹمز موجود نہ ہوں تو دن کے وقت بننے والی اضافی بجلی کو رات کے وقت استعمال کے لیے محفوظ نہیں کیا جا سکتا، جس سے صارفین کو مجبورا مہنگے اور غیر مستحکم قومی گرڈ پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نے نشاندہی کی کہ اسمارٹ گرڈز اور مقامی اسٹوریج کے حل کے ذریعے بجلی کی تقسیم کے نظام کو جدید بنانا اب کوئی اختیاری معاملہ نہیں رہا۔ یہ پاور یوٹیلیٹیز کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے فوائد کو محدود کرنے یا سولر صارفین پر بھاری چارجز عائد کرنے سے بچنے کے لیے ایک معاشی ضرورت ہے۔
صارفین اور صنعت کے لیے آئندہ کے اقدامات
توانائی کے تقسیم شدہ ذرائع اور جدید بیٹری ٹیکنالوجی کی طرف بڑھنے کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور وزارتِ توانائی کی طرف سے پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ اس تجویز کردہ فریم ورک کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- لیتھیم آئن اور توانائی کے ذخیرہ کرنے والے جدید آلات کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ یا آسان مالی اعانت فراہم کرنا۔
- پاور کے الٹے بہاؤ کو بحفاظت سنبھالنے کے لیے مقامی ڈسٹ্রি بیوشن ٹرانسفارمرز کو اپ گریড کرنا۔
- ایسے اسمارٹ میٹرنگ انفراسٹرکچر کا نفاذ جو آف پیک اوقات میں بیٹری چارجنگ کی حوصلہ افزائی کرے۔
- رہائشی چھتوں پر سولر لگانے والے سرمایہ کاروں کو پالیسی میں اچانک تبدیلیوں سے تحفظ دینا۔
آپ کو اب کیا کرنا چاہیے
اگر آپ فی الحال بغیر کسی بیک اپ کے گرڈ سے منسلک سولر سسٹم چلا رہے ہیں، تو شام کے اوقات میں اپنی بجلی کی کھپت کا جائزہ لیں۔ نیپرا کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کی پالیسیوں میں ممکنہ تبدیلیوں سے پہلے کسی مستند سولر انجینئر سے مشورہ کر کے ہائبرڈ انورٹر اور لیتھیم بیٹری بینک کا نظام نصب کرنے پر غور کریں۔ نیپرا کی طرف سے جاری ہونے والی تازہ ترین پالیسی اپڈیٹس پر نظر رکھیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
حکومتِ پاکستان اور نیپرا کی جانب سے نیٹ میٹرنگ ٹیرف میں ممکنہ تر ترمیم اور مقامی سطح پر بیٹری مینوفیکچرنگ کے لیے مراعات کے اعلانات پر نظر رکھیں۔ سال 2026 کے دوران پاور سیکٹر میں اصلاحات کا عمل یہ طے کرے گا کہ گھریلو صارفین گرڈ میں مداخلت کے بغیر اپنی سرمایہ کاری سے کتنا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
