بھارتی زیر کنٹرول اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (SIA) نے ایس آئی اے کے مقبوضہ کشمیر میں متعدد مقامات پر چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ بدھ، 12 اگست کو کیے جانے والے ان آپریشنز کے دوران وادی کے نو مختلف مقامات پر تلاشی لی گئی۔
چھاپوں کی تفصیلات
ان چھاپوں کا مرکزی مقصد 1990 میں پیش آنے والے کشمیری پنڈت کے دوہرے قتل کے کیس کی تحقیقات کرنا بتایا گیا ہے۔ بھارتی حکام کے زیر اثر کام کرنے والی اس ایجنسی نے صبح سویرے مختلف علاقوں کا محاصرہ کیا اور شواہد اکٹھے کرنے کے لیے تلاشی کا عمل مکمل کیا۔ اگرچہ ایجنسی کی جانب سے مخصوص مقامات کی مکمل فہرست جاری نہیں کی گئی، تاہم یہ کارروائیاں مقبوضہ وادی کے مختلف اضلاع میں کی گئیں۔
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب مقبوضہ علاقے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایس آئی اے گزشتہ کچھ عرصے سے 1990 کی دہائی کے پرانے کیسز کو دوبارہ کھولنے میں سرگرم ہے، جس کا مقصد علاقے میں جاری سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر مزید دباؤ ڈالنا ہے۔
پس منظر اور صورتحال
جس کیس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اس کا تعلق 1990 کے ہنگامہ خیز دور سے ہے، جو خطے میں تشدد اور سیاسی بے چینی کا ایک اہم سال سمجھا جاتا ہے۔ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک یہ فائلیں بند تھیں، جنہیں اب دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔ مقامی آبادی ان چھاپوں کو نئی دہلی کی جانب سے جاری دباؤ کے ایک حصے کے طور پر دیکھتی ہے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوتی ہے۔
آئندہ کے اقدامات
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا ان چھاپوں کے نتیجے میں کوئی باضابطہ گرفتاریاں عمل میں آتی ہیں یا نہیں۔ ایس آئی اے کی جانب سے تلاشی کے دوران قبضے میں لیے گئے سامان یا دستاویزات کے بارے میں تاحال کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا یہ آپریشنز مزید اضلاع تک پھیلائے جائیں گے یا یہ صرف پرانے کیسز تک محدود رہیں گے۔
1990 کے کیس کی حساسیت کے پیش نظر، ان چھاپوں کے بعد قانونی کارروائی کا عمل طویل ہو سکتا ہے۔ مقامی ماہرین قانون اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے ان پرانے کیسز کو دوبارہ کھولنے پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
