سیالکوٹ کے چھوٹے کارخانوں اور فیکٹریوں نے 2024-25 کے مالی سال میں پاکستان کو 1.8 ارب ڈالر کی غیر ملکی زر مبادلہ کمائی ہے، جیسا کہ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایس سی سی آئی) نے بدھ کو اعلان کیا۔
ایس سی سی آئی کے صدر سید احتشام گلانی نے اس اعداد و شمار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم پنجاب کے ٹاپ تین زر مبادلہ کمانے والے اضلاع میں شامل ہے اور ملک بھر میں چھٹے نمبر پر ہے۔ اس رقم کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ تین اہم شعبوں سے آیا ہے: چمڑے کی اشیاء، کھیلوں کا سامان، اور سرجری کے آلات۔ چمڑے کی برآمدات پہلی بار سیالکوٹ کی تاریخ میں ایک ارب ڈالر کے پار پہنچ گئی ہیں۔
اس زر مبادلہ کی بڑھوتری کے باوجود عالمی مشکلات جیسے بڑھتے ہوئے شپنگ اخراجات، ڈالر کی شرح میں اتار چڑھاؤ، اور یورپین یونین اور امریکہ کی طرف سے سخت معیاری جانچ نے اس کو متاثر کیا ہے۔ ایس سی سی آئی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی وجہ نئے منڈیوں جیسے افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا میں زبردست مارکیٹنگ اور حکومت کی طرف سے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ (ای ڈی ایف) اور لمبے مدتی finansنگ سہولت (ایل ٹی ایف ایف) کے تحت دی جانے والی سہولیات ہیں۔
سیالکوٹ کس طرح کما رہا ہے: اس ترقی کے پیچھے کے اعداد و شمار
- 1.8 ارب ڈالر زر مبادلہ 2025 میں کمایا گیا (جولائی 2024 – جون 2025)
- 1.1 ارب ڈالر چمڑے کی اشیاء سے (پچھلے سال کے مقابلے میں 18 فیصد اضافہ)
- 420 ملین ڈالر کھیلوں کے سامان سے (پچھلے سال کے مقابلے میں 12 فیصد اضافہ)
- 280 ملین ڈالر سرجری کے آلات سے (پچھلے سال کے مقابلے میں 9 فیصد اضافہ)
- 85 فیصد برآمدات یورپین یونین، امریکہ، اور برطانیہ کو جاتی ہیں
- 15 فیصد افریقہ، مشرق وسطیٰ، اور جنوب مشرقی ایشیا کو جاتی ہیں
شہر کے 4,500 رجسٹرڈ برآمد کنندگان اور 12,000 سے زیادہ چھوٹے کارخانوں میں 250,000 سے زیادہ افراد کام کرتے ہیں، جن میں سے اکثر خواتین ہیں جو گھروں میں بیٹھ کر فٹ بال اور دستانے سیتی ہیں۔ ان یونٹس میں اوسط ماہانہ اجرت 22,000 سے 28,000 روپے ہے، جو کم از کم اجرت سے تھوڑی ہی زیادہ ہے لیکن ضلع سیالکوٹ میں جہاں زراعت سکڑ رہی ہے، خاندانوں کے گزارے کے لیے کافی ہے۔
بڑھوتری کی وجوہات: حکومت اور محنت
ایس سی سی آئی کے گلانی نے اس ریکارڈ کمائی کے لیے تین عوامل کو ذمہ دار ٹھہرایا:
- حکومتی اسکیمیں: ای ڈی ایف برآمد کنندگان کو 4 فیصد تک کی مارکیٹنگ اور معیاری جانچ کے اخراجات کی واپسی فراہم کرتا ہے۔ ایل ٹی ایف ایف چھوٹے یونٹس کو 6 فیصد پر مشینری اپ گریڈ کے لیے قرضے فراہم کرتا ہے، جس سے وہ خودکار سٹچنگ مشینیں خرید سکیں۔
- تنوع: امریکہ اور یورپ پر انحصار کرنے کے بعد، برآمد کنندگان نے نائجیریا، کینیا، اور ویتنام میں دفاتر کھولے ہیں۔ سیالکوٹ کے ایک چمڑے کے برآمد کنندہ نے نئے پاکستان کو بتایا کہ اس کی فرم اب افریقہ کو 20 فیصد پیداوار فروخت کرتی ہے، جو دو سال قبل صرف 5 فیصد تھی۔
- معیاری جانچ کی کوششیں: آئی ایس او 9001 اور بی ایس سی آئی معیارات پر اپ گریڈ ہونے والی فیکٹریوں کو یورپ میں کم مسترد کیا گیا۔ ایس سی سی آئی نے پچھلے سال 3,200 کارکنوں کو معیاری جانچ میں تربیت دینے پر 150 ملین روپے خرچ کیے۔
چیلنجز: کیوں یہ سب اتنا آسان نہیں
اگرچہ اعداد و شمار خوش کن ہیں، برآمد کنندگان تین بڑے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں:
- ڈالر کی عدم استحکام: پاکستانی روپے نے پچھلے 12 مہینوں میں ڈالر کے مقابلے میں 25 فیصد کی قدر گنوا دی ہے، جس سے منافع کے مارجن سکڑ گئے ہیں۔
- سرکاری رکاوٹیں: لاہور کے علامہ اقبال بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کسٹمز کی کلیئرنس میں تیز ترین شپمنٹس کے لیے بھی 5-7 دن لگتے ہیں، جبکہ دبئی میں یہ کام 2-3 دن میں ہو جاتا ہے۔
- توانائی کے اخراجات: سیالکوٹ کی چمڑے کی فیکٹریوں کو پچھلے سال بجلی اور گیس کے کٹ آؤٹس کی وجہ سے 800 ملین روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا، ایس سی سی آئی کے اندازوں کے مطابق۔
گلانی کا کہنا ہے کہ چیمبر نے وفاقی محصولات بورڈ (ایف بی آر) اور وزارت تجارت کو ڈرائیک بیک آف ڈیوٹی اینڈ ٹیکسز اسکیم کے تحت جلدی واپسی کے لیے خط لکھا ہے۔ انھوں نے نئے پاکستان کو بتایا، "ہمارے پاس پیسے 30 دن میں واپس آنا چاہئیں، 90 دن میں نہیں۔"
آپ کے لیے اس کا کیا مطلب ہے
اگر آپ ایک صارف ہیں، تو زر مبادلہ کی یہ خوش حالی آپ کے لیے دو براہ راست اثرات رکھتی ہے:
- سستے درآمدات: مضبوط روپے (جب یہ قائم رہتا ہے) اسمارٹ فونز، کاریں، اور ادویات جیسی درآمدی اشیاء کو تھوڑا سستا بنا دیتا ہے۔
- مزید روزگار: برآمدات کی یہ خوش حالی سیالکوٹ میں 15,000 نئی ملازمتیں پیدا کر چکی ہے، زیادہ تر سٹچنگ، کاٹنے، اور پیکنگ کے شعبوں میں۔
اگر آپ ایک برآمد کنندہ ہیں، تو آپ کو درج ذیل چیزوں پر نظر رکھنی چاہئے:
- نئی منڈیاں: ایس سی سی آئی نومبر 2025 میں سیالکوٹ ایکسپو افریقہ کا انعقاد کر رہا ہے، جو فرموں کو مشرقی افریقہ میں قدم جمانے میں مدد دے گا۔
- معیاری جانچ کی آخری تاریخیں: یورپین یونین کی کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم) مکمل طور پر جنوری 2026 میں نافذ ہو جائے گی۔ وہ فیکٹریاں جو زیادہ کاربن خارج کرتی ہیں، ان پر ٹیرiffs لگائے جائیں گے جب تک کہ وہ صاف توانائی کی طرف نہ چلی جائیں۔
- قرضے کا سہولت کار: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ایل ٹی ایف ایف اسکیم کو جون 2027 تک بڑھا دیا ہے۔ اپنے بینک کے ذریعے درخواست دیں، جس میں کاروباری پلان اور مشینری کی انوائس شامل ہو۔
آگے کیا ہے: دو ارب ڈالر کے ہدف کی طرف
ایس سی سی آئی نے FY2026 کے لیے دو ارب ڈالر کے زر مبادلہ کمائی کا ہدف مقرر کیا ہے۔ گلانی کا کہنا ہے کہ چیمبر اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے:
- سیالکوٹ اور افریقہ کے دارالحکومتوں کے درمیان براہ راست پروازوں کے لیے کوششیں کرے گا تاکہ شپنگ کا وقت کم ہو۔
- چمڑے کی فیکٹریوں کے لیے گیس پر 2 فیصد سبسڈی کے لیے لابنگ کرے گا۔
- 5,000 مزید کارکنوں کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ای کامرس میں تربیت دے گا۔
شہر کے میئر محمد مسعود انور نے نئے پاکستان کو بتایا کہ ضلعی حکومت سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ایک نئی کارگو ٹرمینل بنا رہی ہے، جو مارچ 2026 میں کھلنے والی ہے۔ انھوں نے کہا، "اس سے ہوائی مال برداری کے اخراجات 30 فیصد کم ہوں گے اور سالانہ 200,000 ٹن کی اضافی صلاحیت بڑھے گی۔"
اپنی برآمد کی حیثیت کیسے چیک کریں
اگر آپ ایس سی سی آئی کے رجسٹرڈ برآمد کنندہ ہیں:
- پاکستان سینگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) پورٹل پر لاگ ان کریں: https://psw.gov.pk
- اپنا این ٹی این اور آئی آر سی نمبر درج کریں۔
- ڈرائیک بیک کے دعووں، ای ڈی ایف کی واپسی، اور کسٹمز کلیئرنس کی حقیقی وقت کی حیثیت چیک کریں۔
غیر ارکان کے لیے، ایس سی سی آئی کا ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن سینٹر جিন্নah روڈ، سیالکوٹ پر واقع ہے، جو معیاری جانچ اور منڈیوں پر مفت مشورہ فراہم کرتا ہے۔ ملاقات کے لیے کال کریں 052-4221111۔
آخری بات
سیالکوٹ کی زر مبادلہ کی کمائی پاکستان کے بیلنس آف پےمنٹ کے بحران میں ایک نادر روشن مقام ہے۔ لیکن یہ خوش حالی نازک ہے—ڈالر میں اتار چڑھاؤ، سرکاری رکاوٹیں، اور توانائی کے اخراجات ایک رات میں منافع کو مٹا سکتے ہیں۔ اگلے 12 مہینے یہ دکھائیں گے کہ کیا شہر اپنے ورکشاپ معیشت کو پائیدار ترقی کے انجن میں بدل سکتا ہے، یا پھر اسے ایسے عوامل کے ہاتھوں رہنا پڑے گا جو اس کے اختیار سے باہر ہیں۔
فی الحال، سیالکوٹ کی گلیوں میں سیاہے گئے دستانے، فٹ بال، اور سرجری کے آلات پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر کو بحال رکھے ہوئے ہیں۔ کیا یہ بدل سکتا ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ شہر کتنی جلدی ڈھال سکتا ہے—اور اسلام آباد سے کتنی مدد ملتی ہے۔
