وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سلک روڈ فنڈ (SRF) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی ہے، جس کی قیادت فنڈ کی چیئرپرسن ژو جون کر رہی تھیں۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینا تھا۔

ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ دوطرفہ فریم ورک کو بہتر بناتے ہوئے سرمایہ کاری کے بہاؤ کو تیز کیا جائے، خاص طور پر ایسے شعبوں میں جو ملکی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دونوں جانب سے جاری منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور رابطوں اور صنعتی تعاون کے تحت مالیاتی شراکت داری کے لیے نئے راستے تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانا

یہ ملاقات اسلام آباد کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کے ذریعے ملک میں قابل اعتماد براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا رہا ہے تاکہ معاشی اشاریوں کو استحکام دیا جا سکے. وزیر خزانہ نے ایس آر ایف کے وفد کو حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ساختی اصلاحات کے بارے میں بریفنگ دی اور کاروباری ماحول، زرمبادلہ کے ذخائر اور مالیاتی انتظام میں بہتری کو اجاگر کیا۔

ملاقات کے دوران جن اہم شعبوں کا جائزہ لیا گیا ان میں درج ذیل شامل ہیں:
- بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور لاجسٹکس میں بہتری
- توانائی کے شعبے کی جدید کاری اور قابل تجدید توانائی کے منصوبے
- صنعتی تعاون اور مشترکہ منصوبے
- تجارتی مالی معاونت کے نظام میں توسیع

سرمایہ کاروں کے لیے اگلے اقدامات

مقامی کاروباروں اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے لیے، یہ اعلیٰ سطحی مذاکرات منصوبوں پر عمل درآمد کو تیز کرنے کی سمت کی عکاسی کرتے ہیں۔ آپ کو آنے والے ہفتوں میں مشترکہ ورکنگ گروپس اور طے شدہ فریم ورک کے حوالے سے آنے والے سرکاری اعلانات پر نظر رکھنی چاہیے۔

جیسے جیسے حکومت بین الاقوامی فنڈز کے ساتھ اپنے رابطے جاری رکھے گی، مخصوص منصوبوں کی تخصیص اور شعبہ وار حدود کے بارے میں مزید تفصیلات سرکاری ذرائع سے جاری کی جائیں گی۔ ایسے ریگولیٹری فیصلوں پر نظر رکھیں جو منافع کی واپسی کو آسان بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ضابطہ کار کی منظوری کو تیز کرنے کے لیے بنائے جا رہے ہیں۔