سندھ حکومت نے اسکولوں میں حاضری کے روایتی طریقوں کو تبدیل کرتے ہوئے چہرے کی شناخت کے جدید نظام کی منظوری دے دی ہے، جس کے ساتھ ہی سندھ بائیو میٹرک اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے۔ یہ قدم سرکاری اسکولوں میں طلبا اور اساتذہ کی غیر حاضری پر قابو پانے کے لیے اٹھایا گیا ہے جس کا آغاز 17 اگست 2026 سے ہوگا۔

پہلے مرحلے میں اس منصوبے کو ایک پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر صوبے کے چھ مختلف اضلاع میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق تکنیکی ٹیمیں اسکولوں میں درکار ہارڈ ویئر کی تنصیب کا کام مکمل کر رہی ہیں تاکہ اگست کے وسط میں اس نظام کو باقاعدہ فعال کیا جا سکے۔

کن اضلاع میں پائلٹ پروجیکٹ شروع ہو رہا ہے؟

اس نئے چہرے کی شناخت کے اسکول حاضری کے نظام کا پہلا مرحلہ چھ مخصوص اضلاع تک محدود رکھا گیا ہے تاکہ سافٹ ویئر اور کیمروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔ ان اضلاع میں اساتذہ کی غیر حاضری کے مسائل سب سے زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں، اس لیے حکام نے ایسے علاقوں کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا ہے۔

  • پائلٹ پروجیکٹ کا باقاعدہ آغاز 17 اگست 2026 سے ہوگا۔
  • پہلے مرحلے میں سندھ کے چھ اضلاع کے اسکول شامل ہیں۔
  • اس نظام کے ذریعے اساتذہ اور طلبا دونوں کی حاضری ڈیجیٹل طور پر درج ہوگی۔
  • تمام ڈیٹا ریئل ٹائم میں صوبائی محکمہ تعلیم کے مرکزی ڈیٹا بیس کو منتقل کیا جائے گا۔

محکمہ تعلیم نے بائیو میٹرک اے آئی کا انتخاب کیوں کیا؟

صوبے کے سرکاری اسکولوں میں غیر حاضر اساتذہ اور فرضی اسکولوں کا مسئلہ طویل عرصے سے چلا آرہا ہے۔ روایتی حاضری کے رجسٹروں میں ہیر پھیر کرنا آسان ہوتا ہے جس کی وجہ سے ضلعی افسران کے لیے درست کارکردگی جانچنا مشکل بن جاتا ہے۔

چہرے کی شناخت کی اس ٹیکنالوجی سے حکومت کو امید ہے کہ اس مالی ضیاع کو روکا جا سکے گا۔ اسکول کے دروازوں پر نصب کیمرے خود بخود ڈیٹا بیس سے شناخت کا موازنہ کریں گے اور سیکنڈز میں حاضری درج کر لیں گے۔ اس اقدام سے تعلیمی اداروں میں شفافیت اور جوابدہی کا نیا کلچر پروان چڑھے گا۔

والدین اور اساتذہ کے لیے آئندہ کے اقدامات

اگر آپ کا بچہ ان چھ منتخب اضلاع میں سے کسی سرکاری اسکول میں پڑھتا ہے تو 17 اگست کی ڈیڈ لائن سے پہلے اسکول انتظامیہ طلبا کے کوائف اور تصاویر کا ڈیٹا اکٹھا کرے گی۔ اساتذہ کو بھی اس ڈیجیٹل مشینری کو چلانے اور انٹرنیٹ کے مسائل کی صورت میں آف لائن ریکارڈ رکھنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔

اپنے قریبی اسکول یا ضلعی محکمہ تعلیم کی ہدایات پر نظر رکھیں تاکہ ڈیٹا اندراج کے عمل میں کوئی تاخیر نہ ہو۔ اس پائلٹ پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد اس نظام کو پورے سندھ کے تمام اسکولوں تک پھیلانے کا ارادہ ہے۔