صوبے کے اندرونی علاقوں میں سفر کرنے والے شہریوں کو جلد ایک اور مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ حکومت نے سندھ ٹোল ٹیکس کی ایک اہم سڑک پر وصولی کی منظوری دے دی ہے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت بدھ 11 فروری 2026 کو ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں 135 کلومیٹر طویل نوابشاہ رانی پور مہران ہائی وے پر ٹোল ٹیکس عائد کرنے کا باضابطہ فیصلہ کیا گیا۔

روزانہ کی بنیاد پر اس راستے سے سفر کرنے والے مسافروں، ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیوروں کے لیے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گھریلو اخراجات پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس پالیسی اور کابینہ کے دیگر فیصلوں کا آپ کی روزمرہ زندگی پر کیا اثر پڑے گا، اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

مہران ہائی وے پر ٹোল ٹیکس کا آپ کی جیب پر اثر

صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ ٹোল ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم کو اس 135 کلومیٹر طویل سڑک کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ نوابشاہ اور رانی پور کے درمیان ذاتی گاڑیوں، مسافر ویگنوں اور مال بردار ٹرکوں کے ذریعے سفر کرنے والے تمام افراد کو اب اپنے سفری اخراجات میں اس ٹیکس کا اضافہ کرنا ہوگا۔ اگرچہ مختلف گاڑیوں کے لیے نرخوں کی حتمی تفصیلات کا باضابطہ اعلان ہونا باقی ہے، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ جلد ہی ٹول پلازہ قائم کر دیے جائیں گے۔

اگر آپ ذاتی کاروبار یا سفر کے لیے اس شاہراہ کا اکثر استعمال کرتے ہیں تو آپ کے سفری اخراجات میں اضافہ ہو جائے گا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی خستہ حالی دور کرنے کے لیے فنڈز کی ضرورت ہے، تاہم عام شہری کے لیے یہ اخراجات میں مزید اضافے کے مترادف ہے۔

کابینہ کے دیگر اہم معاشی فیصلے

بدھ کے اجلاس میں ہائی وے پر ٹোল کی منظوری کے علاوہ دیگر کئی اہم پالیسی امور پر بھی غور کیا گیا۔ کابینہ نے صوبے میں گندم کے ذخائر کو مستحکم کرنے اور آٹے کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے کو روکنے کے لیے 4 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری بھی دی۔

اس کے علاوہ اجلاس میں صوبے بھر میں کم سے کم اجرت میں 7.5 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی گئی۔ اگرچہ یہ اضافہ مہنگائی کے تناظر میں مزدور طبقے کو معمولی ریلیف دے گا، لیکن مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ شرح اشیائے خوردونوس، یوٹیلیٹی بلز اور ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے کے مقابلے میں ناکافی ہے۔

آپ کو اب کیا کرنا چاہیے؟

  • اپنے سفری بجٹ کا جائزہ لیں: اگر آپ کا روزمرہ کا سفر یا سامان کی ترسیل نوابشاہ رانی پور روڈ کے ذریعے ہوتی ہے تو نئے ٹোল چارجز کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اخراجات کا حساب لگائیں۔
  • اجرت میں اضافے پر نظر رکھیں: اگر آپ تنخواہ دار طبقے سے تعلق رکھتے ہیں یا چھوٹا کاروبار چلاتے ہیں تو اجرت میں 7.5 فیصد اضافے کے باضابطہ نوٹیفیکیشن کا انتظار کریں تاکہ درست حساب کتاب ہو سکے۔
  • خوراک کی قیمتوں کا جائزہ لیں: گندم کی درآمدی منظوری کے بعد مقامی مارکیٹ میں آٹے کے نرخوں پر نظر رکھیں تاکہ آپ کو مناسب قیمت پر اشیاء مل سکیں۔

آنے والے ہفتوں میں کن چیزوں پر نظر رکھیں

محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے مہران ہائی وے پر گاڑیوں کی اقسام کے لحاظ سے فیس کے باضابطہ نوٹیفیکیشن کا انتظار کریں۔ اس کے علاوہ کم از کم اجرت کے نفاذ کی تاریخ اور بندرگاہوں پر پہنچنے والی گندم کی کھیپ کے حوالے سے بھی اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔