سندھ بار کونسل (SBC) نے دو وکلاء کو تین ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے عدالت کے احاطے میں دو ملزمان کو زبردستی معافی مانگنے پر مجبور کیا۔

سندھ بار کونسل کا تادیبی اقدام

سندھ بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے باضابطہ طور پر ایڈووکیٹ طلال جمانے اور شہزور پنہور کی معطلی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ یہ فیصلہ ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں وکلاء کے غیر اخلاقی رویے کی نشاندہی کی گئی تھی۔ عدالت کے اندر اس طرح کے واقعات قانونی پیشے کے وقار اور عدالتی نظام کے تقدس کے لیے سوالیہ نشان بنتے ہیں۔

وکلاء کا ضابطہ اخلاق

قانونی برادری کے اراکین کے لیے سخت ضابطہ اخلاق موجود ہے جس کا مقصد عدالتی کارروائی کے دوران نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہے۔ ملزمان پر دباؤ ڈال کر معافی منوانا قانونی حدود سے تجاوز ہے، جس پر کونسل نے سخت نوٹس لیا ہے۔ یہ تین ماہ کی معطلی اس بات کا ثبوت ہے کہ بار کونسل کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا طاقت کے غلط استعمال کو برداشت نہیں کرے گی۔

آگے کیا ہوگا؟

معطلی کی اس تین ماہ کی مدت کے دوران، دونوں وکلاء کسی بھی عدالتی کارروائی میں حصہ نہیں لے سکیں گے اور نہ ہی بطور وکیل پیش ہو سکیں گے۔ یہ اقدام دیگر وکلاء کے لیے بھی ایک انتباہ ہے کہ وہ عدالتوں میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران پیشہ ورانہ اخلاقیات کا خیال رکھیں۔ اس معاملے سے متعلق مزید تفصیلات یا قانونی ضابطہ اخلاق کے بارے میں جاننے کے لیے آپ سندھ بار کونسل کی آفیشل ویب سائٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔