سندھ صوبائی کابینہ نے محنت کشوں کی کم از کم ماہانہ اجرت میں 7.5 فیصد اضافے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کے بعد مزدوروں کی بنیادی تنخواہ 43 ہزار روپے ہو گئی ہے۔
سندھ میں کم از کم اجرت کی تفصیلات
وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں مزدور طبقے کے لیے اس اہم تنخواہ پر نظرثانی کی منظوری دی گئی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے ترجمان کے مطابق سندھ میں نئی کم از کم اجرت کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔ اس فیصلے کا مقصد مہنگائی اور یوٹیوب بلوں کے بوجھ تلے دبے محنت کش طبقے کو کچھ مالی ریلیف فراہم کرنا ہے۔
لیاری کے ملازمین کے لیے اہم فیصلے
اجرت کے فیصلے کے علاوہ کابینہ نے کراچی میں انتظامی اور عوامی فلاحی امور سے متعلق بھی اہم فیصلے کیے۔ اجلاس میں ٹی ایم سی لیاری کے تعلیم اور صحت کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے کنٹریکٹ ملازمین کی ملازمت میں ایک سال کی توسیع کی منظوری دی گئی تاکہ ان اداروں میں تعلیمی اور طبی خدمات کا تسلسل برقرار رہ سکے۔
ملازمین کو اب کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ کراچی، حیدرآباد، سکھر یا سندھ کے کسی بھی ضلع میں کسی نجی یا سرکاری ادارے سے وابستہ ہیں، تو آپ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ یکم جولائی 2026 سے آپ کو کم از کم 43 ہزار روپے تنخواہ ملے۔ تمام صنعتی اور تجارتی ادارے محکمہ محنت کی اس پالیسی کے پابند ہوں گے۔ اگر کوئی ادارہ کم تنخواہ دے تو آپ محکمہ محنت سندھ سے رجوع کر سکتے ہیں۔
آئندہ کیا متوقع ہے؟
محکمہ محنت سندھ کی جانب سے اس فیصلے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جانا باقی ہے، جس کے بعد اس کے نفاذ کا عمل باقاعدہ شروع ہو جائے گا۔ مزدور یونینز اور کاروباری حلقے بھی اس فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ زمینی سطح پر اس کے نفاذ کی نگرانی کی جائے گی۔
