سندھ کابینہ نے باضابطہ طور پر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی (JSMU) کو ہدایت کی ہے کہ وہ سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی صاحبزادی، پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کو تین سال کی مدت کے لیے بطور پروفیسر تعینات کرنے کا عمل شروع کرے۔ یہ فیصلہ صوبائی طبی ادارے میں فیکلٹی کی تعیناتیوں سے متعلق حالیہ انتظامی مشاورت کے بعد سامنے آیا ہے۔
جے ایس ایم یو میں تعیناتی کا عمل
یہ ہدایت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ jsmu appointment of qaim ali shah's daughter کا عمل کابینہ کی نگرانی میں مکمل ہو۔ ڈاکٹر نگہت شاہ، جو ماضی میں بھی تعلیمی اور طبی خدمات انجام دے چکی ہیں، اب تین سال کے لیے بطور پروفیسر اپنے فرائض سرانجام دیں گی۔ توقع ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کابینہ کی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے فوری طور پر قانونی اور انتظامی کارروائی مکمل کرے گی۔
اگرچہ صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ اس طرح کی تعیناتیاں میرٹ اور ادارے کی ضروریات کے مطابق کی جاتی ہیں، تاہم عوامی شعبے میں انفرادی سطح پر فیکلٹی کی تعیناتیوں میں کابینہ کی مداخلت اکثر شفافیت کے حوالے سے سوالات کو جنم دیتی ہے۔ جے ایس ایم یو کراچی میں طبی تعلیم کے اہم مراکز میں سے ایک ہے، جہاں پروفیسر کی سطح پر تعیناتیاں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے سخت معیارات کے تابع ہوتی ہیں۔
جے ایس ایم یو فیکلٹی کے لیے اس کے اثرات
جے ایس ایم یو کے طلباء اور فیکلٹی کے لیے، اس پیش رفت کا مطلب انتظامی سمت کا تسلسل ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ یہ تعیناتی سندھ میں طبی تعلیم کے قوانین اور ضوابط کے عین مطابق ہو۔
- ادارہ: جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی (JSMU)
- تعینات ہونے والی: پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ
- عہدہ: پروفیسر
- مدت: تین سال
- حیثیت: کابینہ کی ہدایت پر
آئندہ کیا متوقع ہے؟
صوبائی تعلیمی پالیسی پر نظر رکھنے والے حلقے یہ دیکھ رہے ہیں کہ یونیورسٹی اس تقرری کے کاغذات کو کیسے نمٹاتی ہے اور کیا اسے ایچ ای سی یا اندرونی فیکلٹی باڈیز کی جانب سے کسی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ توقع ہے کہ یہ تقرری آنے والے چند ہفتوں میں حتمی شکل اختیار کر لے گی۔
اگر آپ جے ایس ایم یو کے طالب علم یا ملازم ہیں، تو فیکلٹی میں تبدیلیوں اور انتظامی فیصلوں کے بارے میں سرکاری نوٹیفکیشنز پر نظر رکھیں۔ یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ www.jsmu.edu.pk تعلیمی تقرریوں اور پالیسی تبدیلیوں سے متعلق باضابطہ معلومات کے لیے مرکزی ذریعہ ہے۔
