سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے پاکستان کے لیے 100 ارب ڈالر کے برآمدی ہدف کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بڑے ہدف تک پہنچنے کے لیے سب سے پہلے صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کرنا ہوگی۔ ایک اعلیٰ سطحی اقتصادی اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جب تک مقامی مینوفیکچررز کو سستی توانائی فراہم نہیں کی جاتی، وہ بین الاقوامی منڈیوں میں غیر ملکی حریفوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

کراچی اور دیگر صنعتی مراکز سے تعلق رکھنے والے صنعت کار طویل عرصے سے یہ شکوہ کر رہے ہیں کہ بجلی اور گیس کے ہوشربا بلوں کی وجہ سے ان کی پیداواری صلاحیت آدھی رہ گئی ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے اس نئے اقتصادی مؤقف کا مقصد ملکی برآمدات کو بڑھانا اور وفاقی اداروں پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ برآمدی صنعتوں کے لیے ٹیرف میں فوری نظرثانی کریں۔

برآمدات کی راہ میں توانائی کے مہنگے نرخ بڑی رکاوٹ

100 ارب ڈالر کے برآمدی ہدف کا حصول براہ راست پیداواری لاگت سے جڑا ہوا ہے۔ جب بجلی کی فی یونٹ قیمتیں آسمان کو چھوتی ہیں تو ٹیکسٹائل، چمڑے، انجینئرنگ اور دیگر مصنوعات کی تیاری کا خرچ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ بین الاقوامی خریدار سستے متبادل کی تلاش میں بنگلہ دیش یا ویت نام کا رخ کر لیتے ہیں۔ مراد علی شاہ نے نشاندہی کی کہ سندھ میں زراعت، ٹیکسٹائل اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں لامحدود صلاحیت موجود ہے، لیکن مہنگی بجلی کی وجہ سے یہ پوٹینشل ضائع ہو رہا ہے۔

ہدف کے حصول کے لیے ضروری اقدامات

اس بڑے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر ایک جامع لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ کاروباری حلقے درج ذیل اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں:

  • تمام بڑے صنعتی زونز کے لیے ایک منافع بخش اور علاقائی سطح پر مسابقتی صنعتی پاور ٹیرف کا نفاذ۔
  • بڑی صنعتوں کے لیے سولر نیٹ میٹرنگ اور کیپٹیভ پاور پالیسیوں میں حائل رکاوٹوں کا فوری خاتمہ۔
  • برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس ریفنڈز کے عمل کو تیز کرنا تاکہ ورکنگ کیپٹل کا بحران ختم ہو۔
  • کراچی کی بندرگاہوں پر لاجسٹکس اور سپلائی چین کے نظام کو جدید بنانا۔

آئندہ کیا متوقع ہے؟

آنے والے دنوں میں وفاقی کابینہ اور نیشنل ٹیرف کمیشن کے فیصلوں پر گہری نظر رکھنی ہوگی تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حکومت صنعتی بجلی کے نرخوں میں کوئی ریلیف دیتی ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک اور ادارہ شماریات کی جانب سے جاری ہونے والے ماہانہ تجارتی اعداد و شمار سے یہ اندازہ ہوگا کہ برآمدی شعبے میں بہتری کی کوئی لہر آئی ہے یا نہیں۔