سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے بدھ کو کہا کہ صوبائی حکومت کراچی اور سندھ بھر میں مال برداروں کی جاری ہڑتال کو ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے کے آخری مراحل میں ہے۔ یہ ہڑتال سوموار سے تیسری دن میں داخل ہو چکی ہے اور اس نے سپلائی چینز کو معطل کر دیا ہے جبکہ عوامی نقل و حمل بھی معطل ہے۔

مال برداروں کی قیادت آل سندھ گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (اے ایس جی ٹی اے) کر رہی ہے۔ ان کا بنیادی مطالبہ فی ٹرک ماہانہ 50 ہزار روپے کی سبسڈی ہے تاکہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، وہ ڈیزل کی قیمتوں میں 15 فیصد کمی اور وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کو 2 ارب روپے کی معطل سبسڈیز کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

  • ہڑتال کی مدت: سوموار، 10 جون 2025 سے جاری
  • اہم مطالبہ: فی ٹرک ماہانہ 50 ہزار روپے کی سبسڈی
  • دوسرا مطالبہ: تجارتی گاڑیوں کے لیے ڈیزل کی قیمتوں میں 15 فیصد کمی
  • تیسرا مطالبہ: وفاقی حکومت کی جانب سے 2 ارب روپے کی معطل سبسڈیز کی ادائیگی
  • متاثرہ علاقے: کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، نوابشاہ
  • حکومت کا ردعمل: وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مذاکرات 90 فیصد مکمل ہو چکے ہیں

ہڑتال کی وجوہات

یہ ہڑتال 28 مئی 2025 کو وفاقی حکومت کی جانب سے مال برداروں کو ایندھن کی سبسڈیز دینے کے وعدے کے باوجود ناکام ہونے کے بعد شروع ہوئی۔ اس کے بعد سے سندھ میں ڈیزل کی قیمتوں میں 12 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہو چکا ہے، جس نے چھوٹے آپریٹرز کے لیے آپریشنل لاگت کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔ اے ایس جی ٹی اے کے صدر محمد یوسف نے رپورٹرز کو بتایا کہ اگر فوری راحت فراہم نہ کی گئی تو بہت سے مال برداروں کو اپنے گاڑیوں کو بیچنا پڑے گا یا اپنا کاروبار بند کرنا پڑے گا۔

ہڑتال کے نتیجے میں کراچی کے wholesale مارکیٹوں کو دو دنوں میں تقریباً 5 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے، جو کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے مطابق ہے۔ تازہ اشیاء جیسے پھل اور سبزیاں ٹرکوں میں سڑ رہی ہیں جبکہ صنعتی علاقوں میں پٹرول پمپوں پر ایندھن کی شدید کمی رپورٹ کی جا رہی ہے۔

حکومت کیا پیشکش کر رہی ہے

وزیر اعلیٰ شاہ نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے مال برداروں میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کی بنیاد پر ایک بار 1.5 ارب روپے کی گرانٹ کی منظوری دی ہے۔ اس کے علاوہ، سندھ حکومت نے وفاقی پیٹرولیم ڈویژن سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت سندھ کو معطل 2 ارب روپے کی سبسڈیز کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ممکنہ تجارتی گاڑیوں پر ڈیزل پر سیلز ٹیکس میں عارضی کمی کا بھی اشارہ دیا ہے، حالانکہ ابھی تک کوئی رسمی تجویز سامنے نہیں آئی ہے۔

تاہم، اے ایس جی ٹی اے کے رہنماؤں نے ایک بار کی گرانٹ کو مسترد کرتے ہوئے ماہانہ 50 ہزار روپے کی سبسڈی پر زور دیا ہے، جو 28 مئی کے معاہدے میں طے پایا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک بار کی ادائیگی ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی، جس کی وجہ سے پچھلے سال کے دوران ڈیزل کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہو چکا ہے۔

اگلے اقدامات

اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو مال برداروں نے اعلان کے 6 گھنٹے کے اندر ہڑتال ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے، یوسف نے بتایا۔ حکومت نے صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے کراچی میں سندھ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے دفتر میں 24 گھنٹے کنٹرول روم قائم کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، کراچی پولیس نے اہم چوراہوں پر اضافی افواج تعینات کر دی ہیں تاکہ سڑکوں کے بند ہونے سے بچا جا سکے۔ پاکستان رینجرز کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے میں مدد کریں۔

کراچی کے رہائشی پہلے ہی اس ہڑتال کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہر کے wholesale مارکیٹوں میں روزانہ مزدوروں کو روز کا 1500 سے 2000 روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے جبکہ چھوٹے دکان داروں کو بھی سامان کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ صدر علاقے کے ایک سبزی فروش نے نیا پاکستان کو بتایا کہ اسے آج 150 روپے فی کلو ٹماٹر خریدنا پڑے ہیں—جو عام قیمت سے دگنی ہے—کیونکہ سپلائی ٹرک مارکیٹ تک نہیں پہنچ سکے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

  • اگر آپ ایک مال بردار ہیں: سبسڈی کی تقسیم کے عمل پر اپ ڈیٹس کے لیے سندھ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ (www.transport.sindh.gov.pk) پر نظر رکھیں۔
  • اگر آپ ایک کاروباری مالک ہیں: اپنے سپلائرز سے رابطہ کریں اور ڈیلیوری کے شیڈول کی تصدیق کریں۔ کراچی کے بہت سے wholesale مارکیٹیں محدود اوقات میں چل رہی ہیں۔
  • اگر آپ ایک مسافر ہیں: عوامی نقل و حمل معطل ہونے کی وجہ سے ride-hailing ایپس یا carpooling سروسز کا استعمال کریں۔ کراچی میٹرو بس محدود سروسز چلا رہی ہے، لیکن تاخیر متوقع ہے۔
  • اگر آپ قیمتوں میں اضافے سے متاثر ہیں: ضروری اشیاء پر کسی بھی راحت کے اقدامات کے لیے وفاقی محصولات بورڈ (ایف بی آر) کی ویب سائٹ (www.fbr.gov.pk) چیک کریں۔

کیا دیکھنا چاہیے

  • جمعرات، 12 جون 2025: اے ایس جی ٹی اے کی جانب سے حکومت کی جانب سے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں مزید احتجاج کرنے کی ڈیڈ لائن۔
  • جمعہ، 13 جون 2025: ممکنہ حتمی معاہدے کا اعلان یا ہڑتال میں مزید توسیع۔
  • اگلے ہفتے: اگر ہڑتال جمعہ سے آگے بھی جاری رہتی ہے تو خوراک کی قیمتوں پر اثرات، خاص طور پر تازہ اشیاء پر۔

یہ ٹکراؤ پاکستان کے ٹرانسپورٹ سیکٹر کے وسیع تر بحران کو ظاہر کرتا ہے، جہاں چھوٹے آپریٹرز—جو ملک کے ٹرکنگ انڈسٹری کے 80 فیصد سے زیادہ پر مشتمل ہیں—بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں اور ٹھہرے ہوئے مال برداری کے ریٹس کے درمیان دباؤ کا شکار ہیں۔ 38 فیصد مہنگائی کے ساتھ، کوئی بھی طویل مدتیDisruption مزید خاندانوں کو غربت کی طرف دھکیل سکتی ہے، خاص طور پر سندھ میں جہاں زراعت اور تجارت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

وزیر اعلیٰ شاہ کی خوش آئند رپورٹ کے باوجود، اگلے 48 گھنٹے یہ طے کریں گے کہ کراچی کی سپلائی چینز بحال ہو سکتی ہیں یا کیا یہ ہڑتال ایک وسیع تر معاشی بحران میں تبدیل ہو جائے گی۔