سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے جمعہ کے روز کراچی میں یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نشے کے عادی بچوں کی بحالی کے لیے صوبائی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے منشیات کے استعمال اور نفسیاتی مسائل کا شکار کم عمر بچوں کو طبی امداد اور نفسیاتی کونسلنگ فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
کراچی میں کم عمر طبقے پر خصوصی توجہ
صوبائی انتظامیہ نے سڑکوں پر رہنے والے اور دیگر کمزور بچوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کی ترجیح قرار دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ شاہ نے زور دیا کہ ریاستی اداروں کو ان بچوں کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں جو منشیات کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس بحالی کے دائرہ کار میں علاج معالجہ، ذہنی صحت کی بہتری اور کراچی میں خصوصی مراکز کا قیام شامل ہے۔
فلاحی اقدامات اور ادارہ جاتی تعاون
محکمہ جاتی حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چائلڈ پروٹیکیشن یونٹس اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کریں۔ حکومت کا مقصد ایسے بحالی مراکز بنانا ہے جہاں ماہرین اور اساتذہ موجود ہوں۔ غربت کے شکار خاندانوں کو بھی سماجی تحفظ کے پروگراموں سے جوڑا جائے گا تاکہ بچوں کو منشیات سے دور رکھا جا سکے۔
حکومت کا آئندہ کا لائحہ عمل
صوبائی انتظامیہ کی جانب سے اس ماہ کے آخر تک فنڈز کی تخصیص اور مراکز کے قیام کا تفصیلی شیڈول جاری کیے جانے کی توقع ہے۔ فلاحی اداروں اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ضلعی ہیلپ لائنز کے ذریعے ایسے بچوں کی نشاندہی کریں۔ سندھ کے بڑے شہروں میں نئے بحالی مراکز کے قیام سے متعلق آئندہ اعلانات پر نظر رکھیں۔
