سندھ حکومت ستمبر میں اپنی طویل انتظار کی جانے والی الیکٹرک وہیکل ٹیکسی سروس کا باقاعدہ آغاز کرنے جا رہی ہے، جو کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ اگر آپ روایتی رائیڈ ہেইলিং سروسز کے مہنگے کرایوں اور غیر یقینی رکشوں سے تنگ آ چکے ہیں، تو یہ پروجیکٹ ایک سستا اور صاف ستھرا متبادل فراہم کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ تاہم، اس الیکٹرک ٹیکسی پر بیٹھنے سے پہلے اس کی اصل معیشت، گاڑیوں کی خصوصیات اور عملیت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
سندھ ای وی ٹیکسی فلیٹ سے کیا توقعات رکھی جائیں
محکمہ ٹرانسپورٹ نے شہر کے اندر سفر کے لیے خاص طور پر ڈیزائن کی گئی الیکٹرک گاڑیاں لانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اگرچہ لانچ سے پہلے حتمی ماڈلز اور مینوفیکچررز کے ناموں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ فلیٹ میں ایسی چھوٹی ہیچ بیک اور سیڈان گاڑیاں ہوں گی جو ایک بار چارج ہونے پر 200 سے 300 کلومیٹر تک کا سفر طے کر سکیں۔ صدر، کلفٹن اور شاہراہ فیصل پر دوہری شفٹ میں چلنے والی ٹیکسی کے لیے یہ رینج کافی ہے۔
- بیٹری رینج: ایک بار مکمل چارج پر 200 سے 300 کلومیٹر
- چارجنگ کا بنیادی ڈھانچہ: شہر کے اہم مقامات پر خصوصی چارجنگ ڈیپو اور فاسٹ چارجرز کی تیاری
- بکنگ کا طریقہ کار: مقامی ڈیجیٹل پیمنٹ گیٹ ویز سے منسلک ایک مخصوص اسمارٹ فون ایپ
تاہم، ان گاڑیوں کا اصل امتحان ان کے شو روم کے دعوے نہیں بلکہ کراچی کی خستہ حال سڑکیں، شدید گرمی جو لیتھیم آئن بیٹریوں پر بوجھ بنتی ہے، اور بجلی کی طویل آنکھ مچولی ہوگی۔
قیمت، کرایے اور پیٹرول والی ٹیکسیوں سے موازنہ
روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کے لیے سب سے اہم سوال کفایت شعاری کا ہے۔ الیکٹرک گاڑی چلانا پیٹرول یا ڈیزل کار کے مقابلے میں کافی سستا پڑتا ہے، کیونکہ بجلی کا فی کلومیٹر خرچہ پیٹرول کی آسمان چھوتی قیمتوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ سرکاری منصوبہ سازوں کا اشارہ ہے کہ سندھ ای وی ٹیکسی سروس کے کرایے ینگو یا ان ڈرائیو جیسے نجی رائیڈ ہেইলিং اداروں کے مقابلے میں 15 سے 20 فیصد کم رکھے جائیں گے۔
تاہم، الیکٹرک کاروں کے فلیٹ کے لیے بھاری سبسڈی یا غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ابتدائی گاڑیوں کی تعداد بہت کم ہوئی—مثلاً پورے شہر کے لیے صرف چند سو گاڑیاں—تو مصروف اوقات میں آپ کو آسانی سے رائیڈ نہیں مل سکے گی۔ اس کے مقابلے میں روایتی پیٹرول ٹیکسیاں ہر جگہ دستیاب ہیں، البتہ ان کے کرایے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھتے ہی مہنگے ہو جاتے ہیں۔
حتمی فیصلہ: فائدے، نقصانات اور یہ کس کے لیے ہے
کیا یہ پروجیکٹ آپ کی توجہ کا مستحق ہے یا یہ بھی روایتی سرکاری اعلانات کی طرح دھندلا جائے گا؟ یہاں زمینی حقائق کا ایک بے باک جائزہ پیش ہے۔
فائدے:
- فی کلومیٹر کم خرچ کی وجہ سے سستے کرایے۔
- دھوئیں سے پاک سفر، جو کراچی کی خطرناک اسموگ کو کم کرنے میں مددگار ہوگا۔
- ایئر کنڈیشنڈ اور ڈیجیٹل میٹر سے لیس محفوظ سواری۔
نقصانات:
- آغاز میں گاڑیوں کی دستیابی انتہائی محدود ہونے کا امکان ہے۔
- طویل مدتی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آیا لوڈشیڈنگ کے دوران چارجنگ اسٹیشن فعال رہتے ہیں یا نہیں۔
یہ سروس ان ملازمین کے لیے بہترین ہے جو روزانہ مقررہ راستوں پر سفر کرتے ہیں۔ اگر آپ شہر کے مضافاتی علاقوں میں رہتے ہیں یا آپ کو کسی بھی وقت فوری رائیڈ کی ضرورت ہوتی ہے، تو روایتی ٹرانسپورٹ ہی آپ کا بنیادی سہارا رہے گی۔
آپ کو اب کیا کرنا چاہیے
فی الحال اپنی موجودہ رائیڈ ہেইলিং ایپس ڈیلیٹ نہ کریں۔ جب یہ سروس ستمبر میں لانچ ہو تو آف پیک اوقات میں مختصر سفر کے لیے اس کی ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے رسپانس ٹائم اور کرایوں کا خود جائزہ لیں۔ اس بات پر بھی نظر رکھیں کہ پہلے دن کتنی گاڑیاں سڑک پر آتی ہیں، کیونکہ دو کروڑ آبادی والے شہر میں چند درجن گاڑیوں سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا۔
آگے کیا دیکھنا ہے
اگلے تین مہینوں میں چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کی تنصیب پر گہری نظر رکھیں۔ اگر سندھ حکومت کے الیکٹرک گرڈز پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر چارجنگ حب بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ منصوبہ چل نکلا سمجھیں۔ ڈرائیوروں کے لیے مراعات اور سیکیورٹی فیچرز سے متعلق اعلانات پر بھی نظر رکھیں، کیونکہ ڈرائیوروں کی دستیابی ہی اس پورے منصوبے کی بقا کا فیصلہ کرے گی۔
