سندھ حکومت نے صوبے بھر کے نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے فیسوں میں غیر قانونی اور من مانے اضافے کے خلاف ایک بڑے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام صوبائی محتسب سندھ کو والدین کی جانب سے موصول ہونے والی سینکڑوں شکایات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ والدین نے شکایت کی ہے کہ اسکول مالکان فیسوں میں اچانک اضافے کے ساتھ ساتھ مخصوص دکانوں سے مہنگی کتابیں، کاپیاں اور یونیفارم خریدنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
پہلے سے ہی مہنگائی کے ستائے ہوئے والدین کے لیے اسکولوں کے یہ اضافی اخراجات شدید ذہنی اور مالی دباؤ کا باعث بن رہے ہیں۔ صوبائی انتظامیہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کے خلاف فوری اور سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اہم معلومات جو آپ کے لیے جاننا ضروری ہیں
- کارروائی کرنے والے ادارے: صوبائی محتسب سندھ اور ڈائریکٹوریٹ آف انسپکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ (DIRPIS)۔
- بنیادی خلاف ورزیاں: بغیر منظوری فیسوں میں اضافہ، امتحانات یا کھیلوں کے نام پر اضافی چارجز، اور مخصوص دکانداروں سے مہنگا سامان خریدنے پر مجبور کرنا۔
- قانونی حد: سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز رولز 2005 کے تحت کوئی بھی اسکول سالانہ 10 فیصد سے زائد فیس نہیں بڑھا سکتا، اور اس اضافے کے لیے بھی محکمہ تعلیم سے تحریری منظوری لازمی ہے۔
- شکایت درج کرانے کا طریقہ: والدین اپنی شکایات سندھ محتسب کے دفتر یا ڈائریکٹوریٹ کے پورٹل (dirpis.sindheducation.gov.pk) پر آن لائن درج کروا سکتے ہیں۔
فیسوں میں اضافے کے حوالے سے سندھ حکومت کے قوانین
کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر بڑے شہروں میں کام کرنے والے بہت سے نجی اسکول صوبائی قوانین کو پس پشت ڈال کر فیسیں وصول کر رہے ہیں۔ قانون کے مطابق، کوئی بھی نجی اسکول اپنی مرضی سے فیسوں میں اضافہ نہیں کر سکتا۔ اسکول انتظامیہ کو فیس بڑھانے سے پہلے اپنے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے اور اخراجات کی تفصیلات محکمہ تعلیم کے پاس جمع کرانی ہوتی ہیں۔
محکمہ تعلیم کی منظوری کے بعد بھی فیس میں زیادہ سے زیادہ 10 فیصد تک ہی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ جو اسکول اس قانونی طریقہ کار کی پیروی نہیں کرتے، ان کا فیس بڑھانا سراسر غیر قانونی ہے۔ صوبائی محتسب کے دفتر کے مطابق، بعض بڑے اسکولوں نے سیکیورٹی، ٹیکنالوجی اور دیگر اضافی چارجز کے نام پر فیسوں میں 20 سے 30 فیصد تک کا اضافہ کر رکھا ہے جو کہ قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
کتابوں اور یونیفارم کی مخصوص دکانوں سے لازمی خریداری
فیسوں کے علاوہ، والدین پر سب سے بڑا بوجھ اسکولوں کی بنائی گئی اجارہ داری ہے۔ بہت سے اسکول والدین کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ نصابی کتابیں، اسکول کے لوگو والی کاپیاں اور یونیفارم صرف ان کی نامزد کردہ مخصوص دکانوں سے ہی خریدیں۔ یہ اشیاء عام مارکیٹ کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زائد قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں۔
محکمہ تعلیم سندھ اس سے قبل بھی کئی سرکولر جاری کر کے اس عمل کو غیر قانونی قرار دے چکا ہے۔ اسکولوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ صرف کتابوں کی فہرست اور یونیفارم کا ڈیزائن والدین کو فراہم کریں، اور انہیں یہ آزادی دیں کہ وہ یہ اشیاء کسی بھی مارکیٹ سے خرید سکیں۔ موجودہ انکوائری میں ان اسکولوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جائے گا جو والدین پر مخصوص دکانوں سے خریداری کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔
اسکول کے خلاف شکایت درج کرانے کا طریقہ کار
اگر آپ کے بچے کے اسکول نے فیسوں میں غیر قانونی اضافہ کیا ہے یا آپ کو مخصوص جگہ سے خریداری پر مجبور کیا جا رہا ہے، تو آپ درج ذیل اقدامات اٹھا سکتے ہیں:
- ثبوت جمع کریں: پرانا فیس واؤچر، نیا فیس واؤچر، اور اسکول کی طرف سے بھیجا گیا کوئی بھی ایسا نوٹس یا پیغام سنبھال کر رکھیں جس میں اضافی رقم کا مطالبہ کیا گیا ہو۔
- منظوری کا سرٹیفکیٹ مانگیں: اسکول انتظامیہ سے کہیں کہ وہ محکمہ تعلیم کی جانب سے منظور شدہ فیس اسٹرکچر کا سرٹیفکیٹ دکھائیں۔ اگر وہ انکار کریں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ غیر قانونی کام کر رہے ہیں۔
- محکمہ تعلیم میں شکایت کریں: آپ کراچی میں واقع ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز کے دفتر جا کر یا ان کی ویب سائٹ کے ذریعے اسکول کے نام اور برانچ کی تفصیلات کے ساتھ تحریری شکایت جمع کرا سکتے ہیں۔
- صوبائی محتسب سے رجوع کریں: والدین صوبائی محتسب سندھ کی ویب سائٹ (mohtasibsindh.gov.pk) پر جا کر آن لائن شکایت درج کرا سکتے ہیں یا کراچی، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ میں قائم ان کے علاقائی دفاتر کا دورہ کر سکتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں کیا ہوگا؟
توقع ہے کہ آنے والے ہفتوں میں محکمہ تعلیم کی مانیٹرنگ ٹیمیں سندھ بھر کے نجی اسکولوں کے اچانک دورے کریں گی۔ فیس قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کو بھاری جرمانے، ان کی رجسٹریشن کی معطلی یا منسوخی، اور انتظامی دفاتر کو سیل کرنے جیسی سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ کسی بھی غیر منظور شدہ فیس کی ادائیگی سے انکار کریں۔ حکومت کی جانب سے جلد ہی رجسٹرڈ اسکولوں کی منظور شدہ فیسوں کی فہرست بھی عوام کے لیے جاری کیے جانے کا امکان ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
