سندھ کے گورنر نیہال ہاشمی نے 10 اگست 2026 کو کراچی کے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میراثی برادری کی پاکستان کی تشکیل میں اہمیت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان کس نے بنایا؟ میراثی یا وہ لوگ جنھوں نے ملک کے لیے جدوجہد کی؟‘‘

ایک ویڈیو کلپ جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے، میں ہاشمی نے ناچنے کو ’’غیر اسلامی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاشرے کی اخلاقی اقدار کو زوال دے رہا ہے۔ ان کا یہ خطاب کراچی کے ایکسپو سینٹر میں ایک عوامی اجتماع سے تھا۔

گورنر نے کیا کہا؟

- ہاشمی نے میراثی برادری کی پاکستان کی تشکیل میں اہمیت پر سوال اٹھایا۔ میراثی جنوبی ایشیا کی ایک روایتی برادری ہے جو موسیقی، شاعری اور شجرہ جات کے ذریعے تاریخ کو محفوظ رکھتی ہے۔
- انھوں نے ناچنے کو ’’غیر اخلاقی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستانی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔
- یہ خطاب 10 اگست 2026 کو کراچی کے ایکسپو سینٹر میں ہوا تھا۔
- ویڈیو کو ایکس (ٹویٹر)، فیس بک اور واٹس ایپ پر 24 گھنٹوں میں 2 ملین سے زائد بار دیکھا گیا ہے۔

یہ بیان کیوں متنازعہ ہے؟

میراثی برادری، جسے پنجاب اور سندھ میں دھادی بھی کہا جاتا ہے، کی صدیوں پرانی روایت ہے جو موسیقی اور شاعری کے ذریعے تاریخ کو محفوظ رکھتی ہے۔ پاکستان کی تحریک آزادی میں ان کے کردار کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہاشمی کے الفاظ نے ان کی قومی شناخت کو مٹانے کی کوشش کی ہے۔

  • سیاسی مخالفین نے ہاشمی کے بیان کو تفرقہ انگیز قرار دیتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
  • ثقافتی کارکنوں نے ایک مظلوم برادری کو بدنام کرنے کا الزام لگایا ہے۔
  • مذہبی علما نے کہا ہے کہ اسلام حلال فنون کو جائز قرار دیتا ہے، جس سے یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ ’’غیر اخلاقی‘‘ کیا ہے۔

گورنر ہاؤس کا ردعمل (یا عدم ردعمل)

سندھ گورنر ہاؤس کے ایک ترجمان نے نئے پاکستان کو بتایا کہ ہاشمی کے الفاظ کو غلط فہمیاں کا شکار کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا، ’’گورنر معاشرے کی اخلاقی زوال پر بات کر رہے تھے، کسی برادری پر حملہ نہیں۔‘‘ انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔

تاہم، 12 اگست 2026 تک کوئی رسمی معافی یا وضاحت جاری نہیں کی گئی ہے۔

عوامی ردعمل: #BoycottHashmi ٹرینڈ پر

سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھا گیا:
- #BoycottHashmi ٹویٹر پر 12 گھنٹوں میں 50,000 سے زائد پوسٹس کے ساتھ ٹرینڈ ہوا۔
- صارفین نے میراثی برادری کے فنون کی ویڈیوز شیئر کیں، جو برطانوی دور میں ثقافتی مزاحمت کا حصہ رہے ہیں۔
- کچھ صارفین نے ہاشمی کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کے الفاظ کو ’پاکستان مخالف‘ قرار دیا۔

آگے کیا ہوگا؟ کیا کوئی نتائج نکلیں گے؟

- مخالف جماعتوں بشمول پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور جماعت اسلامی (جے آئی) نے ابھی تک کوئی رسمی بیان جاری نہیں کیا ہے، لیکن توقع ہے کہ وہ سندھ اسمبلی میں اسIssue کو اٹھائیں گے۔
- انسانی حقوق کے گروپ قومی انسانی حقوق کمیشن (این سی ایچ آر) میں شکایت دائر کر سکتے ہیں۔
- سندھ کلچرل ڈیپارٹمنٹ نے ابھی کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، لیکن فنکاروں کی یونینیں اس ہفتے کراچی اور حیدرآباد میں احتجاج کا اعلان کر چکی ہیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کو آزادی اظہار یا ثقافتی حقوق پر تشویش ہے:
- سندھ اسمبلی یا این سی ایچ آر کی طرف سے جاری ہونے والے اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔
- سرکاری ذرائع جیسے @NCHR_Pakistan یا @SindhGovt کے ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
- سوشل میڈیا پر غیر تصدیق شدہ دعووں کو آگے نہ پھیلائیں۔

کیا دیکھنا چاہیے؟

- 15 اگست 2026: کراچی میں ثقافتی گروپوں کے احتجاجات کی توقع ہے۔
- آئندہ سندھ اسمبلی کا اجلاس: مخالف جماعتوں کی طرف سے اسIssue کو اٹھایا جا سکتا ہے۔
- گورنر کا اگلا عوامی خطاب: کیا وہ وضاحت کریں گے یا اپنے موقف پر قائم رہیں گے؟

پاکستان کے لیے یہIssue کیوں اہم ہے؟

ہاشمی کے الفاظ پاکستان میں ثقافتی پولیسنگ کی بڑھتی ہوئی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں مذہب، روایت اور قومی شناخت پر مباحثے اکثر ٹکراتے ہیں۔ چاہے ان کے الفاظ ایک غلطی تھے یا ایک جان بوجھ کر کی گئی تحریک، اس کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا سیاسی غلطیوں کو تیز کر سکتا ہے اور عوامی گفتگو کتنی نازک ہے۔

فی الحال یہ بحث زوروں پر ہے: کیا میراثیوں نے پاکستان بنایا؟ جواب آپ کے نقطہ نظر پر منحصر ہے۔

---
کیا آپ نے اپنے علاقے میں ایسے ہی ثقافتی مباحثے دیکھے ہیں؟ اپنے تجربات نیچے کمنٹس میں شیئر کریں۔