سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کے گندم درآمد کرنے کے فیصلے کی باضابطہ مخالفت کر دی ہے جس سے مقامی کاشت کاروں کے مفادات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ صوبائی وزیرِ خوراک مخدوم محبوب الزمان نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ بیرونی گندم کی آمد سے ملک کے اندرونی زراعت سے وابستہ کسانوں کی محنت رائیگاں چلی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مقامی منڈی میں گندم کی قیمتیں گر جائیں گی جس سے غریب کسانوں کے لیے اپنے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جائے گا۔
مقامی کاشت کاروں پر اثرات
صوبائی وزارتِ خوراک کا مؤقف یہ ہے کہ جب باہر سے سستی یا درآمد شدہ گندم مارکیٹ میں آتی ہے تو مقامی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں ملتی۔ سندھ کے دیہی علاقوں مثلاً لاڑکانہ، سکھر، نوابشاہ اور حیدرآباد کے لاکھوں کسان اپنی فصل کی کٹائی کے وقت شدید مالی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ مہنگے بیج، ڈیزل، کھاد اور بجلی کے ٹیرف کے باوجود اگر کسان کو اس کی فصل کا مناسب دام نہ ملے تو زرعی معیشت بیٹھ جاتی ہے۔
- صوبائی وزارت کا بیرونی گندم کی آمد پر تحفظات کا اظہار
- کسانوں کو فصل کی کٹائی کے دوران کم ریٹ ملنے کا خدشہ
- مہنگے زرعی مداخل کے باوجود فصل کی قیمت میں کمی
- مقامی پیداوار کو ترجیح دینے کا مطالبہ
زرعی پالیسی پر کشمکش
وفاق اور صوبوں کے درمیان زرعی پالیسیوں کے حوالے سے یہ اختلاف کوئی نیا نہیں ہے۔ وفاقی سطح پر اکثر بڑے شہروں میں آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے درآمدی فیصلے کیے جاتے ہیں جبکہ صوبائی سطح پر کسانوں کے ووٹ اور ان کی معاشیات زیادہ اہم ہوتی ہیں۔ سندھ حکومت کا اصرار ہے کہ گندم کے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے باہر سے منگوانے کے بجائے مقامی کسانوں سے براہِ راست خریداری کی جائے۔
کاشت کاروں اور تاجروں کے لیے ہدایات
اگر آپ کا تعلق زراعت، فلور ملز یا غلہ منڈی سے ہے تو آنے والے ہفتوں میں مارکیٹ کے رجحانات پر گہری نظر رکھیں۔ پاسکو (PASSCO) اور صوبائی محکموں کی جانب سے جاری ہونے والی پالیسیوں سے باخبر رہیں تاکہ آپ کو سپورٹ پرائس اور خریداری کے نرخوں کا درست اندازہ ہو سکے۔ اپنی فصل کو جلد بازی میں کم نرخوں پر فروخت کرنے سے گریز کریں۔
آئندہ کیا متوقع ہے
آنے والے دنوں میں وفاقی اور صوبائی وزرائے خوراک کے درمیان ہونے والے اجلاسوں پر نظر رکھیں۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا اسلام آباد درآمدی حجم میں کمی کرتا ہے یا سندھ کے تحفظات کے پیشِ نظر کوئی نئی حکمتِ عملی طے کی جاتی ہے۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ کی آئندہ رپورٹس سے اس پالیسی کا مستقبل واضح ہوگا۔
