گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بدھ کے روز سندھ حکومت کی جانب سے چترال کے سیلاب متاثرین کے لیے بھیجی گئی 10 ٹرکوں پر مشتمل امدادی کھیپ باضابطہ طور پر وصول کر لی۔ یہ اقدام صوبوں کے مابین یکجہتی اور مشکل وقت میں باہمی تعاون کی ایک اہم مثال ہے۔
چترال سیلاب امداد کی تفصیلات
امدادی ٹرکوں میں راشن، پینے کا صاف پانی، خیمے اور طبی سامان سمیت ضروری اشیاء شامل ہیں۔ پشاور میں گورنر ہاؤس اور سندھ کی صوبائی انتظامیہ کے درمیان رابطے کے ذریعے ان سامان کی ترسیل کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ چترال کے دور دراز اور متاثرہ علاقوں تک فوری مدد پہنچائی جا سکے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ یہ مدد اس بات کا ثبوت ہے کہ چترال کے عوام تنہا نہیں ہیں اور پورا ملک ان کی بحالی کے لیے کوشاں ہے۔
متاثرین کے لیے ہدایات
متاثرہ علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے امداد کی تقسیم کا عمل ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے (PDMA) کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا۔ اگر آپ چترال کے سیلاب سے متاثرہ علاقے میں ہیں تو درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:
- امدادی مراکز کے مقامات کے بارے میں مقامی انتظامیہ کے اعلانات پر نظر رکھیں۔
- اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کا نام مقامی یونین کونسل کے دفتر میں رجسٹرڈ ہے تاکہ آپ امدادی پیکیج حاصل کر سکیں۔
- اگر آپ کے علاقے تک مدد نہیں پہنچی تو پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔
آگے کیا ہوگا؟
فوری امداد کے بعد اب توجہ طویل مدتی بحالی پر مرکوز کی جائے گی۔ آنے والے ہفتوں میں صوبائی حکومت نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے کرے گی جس میں تباہ شدہ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر نو شامل ہے۔
عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سڑکوں کی بحالی اور مزید امدادی سرگرمیوں کے بارے میں تازہ ترین معلومات کے لیے پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کی ویب سائٹ ملاحظہ کرتے رہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر نقصانات کا دائرہ کار وسیع ہوا تو وفاقی اداروں سے بھی اضافی فنڈز کی درخواست کی جائے گی۔
