سندھ کی وزیر صحت و بہبودِ آبادی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے ایک حالیہ بیان نے طبی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث چھڑ دی ہے، جس میں انہوں نے تجویز دی ہے کہ تیسرے سیزیرین آپریشن کے بعد خواتین کی ٹیوبل لیگیشن یعنی نس بندی کی جانی چاہیے۔ اس بیان کے بعد کراچی سے لے کر اندرون سندھ تک ڈاکٹروں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور عام شہریوں کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

بار بار سی سیکشن کے طبی خطرات

لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے ماہرینِ امراض نسواں طویل عرصے سے بار بار ہونے والے سی سیکشن کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ ہر اگلے سیزیرین کے ساتھ ماں کے جسم میں پیچیدگیوں، جیسے کہ بچے دانی پھٹنے یا شدید خون بہنے کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔

طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بار بار آپریشن سے گریز کرنا صحت کے لیے بہتر ہے۔ تاہم، اس طبی حقیقت کو سرکاری سطح پر پالیسی یا ایک سخت ضابطے کے طور پر پیش کرنا معاشرتی اور اخلاقی حوالے سے ایک حساس موضوع بن گیا ہے۔

عوامی ردعمل اور اخلاقی تحفظات

اس تجویز کے ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کو لازمی نس بندی کی بات کرنے کے بجائے صحت کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر توجہ دینی چاہیے۔ دیہی سندھ کے اضلاع میں زچگی کے دوران طبی عملے کی کمی اور بنیادی مراکز صحت کی ابتر حالت کی وجہ سے عام خواتین کو مجبوراََ پیچیدہ آپریشنز کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

  • دیہی علاقوں میں قبل از پیدائش کونسلنگ کا فقدان
  • نجی میٹرنٹی ہومز میں معیاری پروٹوکولز کی عدم موجودگی
  • بعد از زچگی دیکھ بھال کے موثر نظام کی کمی

بطور مریض آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ یا آپ کے خاندان میں کوئی خاتون حمل کے مرحلے سے گزر رہی ہے، تو یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ٹیوبل لیگیشن یا نس بندی ہمیشہ ایک رضاکارانہ فیصلہ ہوتا ہے۔ کوئی بھی سرکاری ہدایت یا بیان کسی خاتون کو اس کی مرضی کے بغیر مستقل مانع حمل طریقہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔

کسی بھی حتمی فیصلے سے پہلے کسی مستند اور تجربہ کار گائناکالوجسٹ سے مشورہ کریں۔ اپنے میڈیکل ہسٹری کے مطابق خاندان کی منصوبہ بندی کے دیگر محفوظ طریقوں پر بھی بات کریں۔

آگے کیا متوقع ہے؟

محکمہ صحت سندھ اور متعلقہ طبی اداروں کی جانب سے اس بیان پر مزید وضاحتوں کا انتظار کریں۔ سندھ اسمبلی میں بھی اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جانے کا امکان ہے، جس سے آنے والے دنوں میں خواتین کے تولیدی حقوق پر بحث مزید زور پکڑے گی۔