سندھ ہائیکورٹ نے سندھ فلم سنسر بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستانی ہارر فلم 'گھوسٹ اسکول' پر لگی پابندی پر نظرثانی کرے اور فلم سازوں کی درخواست پر 14 دن کے اندر فیصلہ سنائے۔

12 جون 2026 کو جاری ہونے والے مختصر حکم نامے میں سندھ ہائیکورٹ نے سندھ فلم سنسر بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ وہ فلم سازوں کی نظرثانی کی درخواست پر فیصلہ کریں اور اپنی رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے فلم پر پابندی کے اصل اسباب کی وضاحت نہیں کی، تاہم فلم سازوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ان کے آرٹیکل 19 کے تحت اظہار رائے کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

سندھ فلم سنسر بورڈ نے گھوسٹ اسکول کی نمائش پر پابندی عائد کردی تھی، جس کی وجہ فلم کے موضوعات، بھوتوں کی تصویر کشی یا مذہبی حساسیتوں سے متعلق خدشات بتائے جا رہے ہیں۔ فلم کے پروڈیوسروں نے تاہم کسی غلطی کی تردید کی ہے اور سنسر بورڈ پر انتہا پسندی کا الزام لگایا ہے۔

اب کیا ہوگا؟

  • سندھ فلم سنسر بورڈ کو اب فلم کی سرٹیفیکیشن پر دوبارہ غور کرنا ہوگا اور اپنا فیصلہ 26 جون 2026 تک سندھ ہائیکورٹ کو پیش کرنا ہوگا۔
  • اگر بورڈ پابندی برقرار رکھتا ہے، تو فلم ساز وفاقی سنسر بورڈ یا سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں۔
  • سندھ میں پابندی کے باوجود فلم کی ریلیز دوسری صوبوں میں متاثر نہیں ہوگی، تاہم ڈسٹری بیوٹروں کو قومی ریلیز میں تاخیر کا سامنا ہو سکتا ہے۔

فلم پر پابندی کیوں لگائی گئی؟

سندھ فلم سنسر بورڈ نے ابھی تک پابندی کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں، تاہم پاکستانی فلم سنسرشپ اکثر مذہبی شخصیات، مافوق الفطرت عناصر یا تشدد سے متعلق مواد پر نظر رکھتی ہے۔ 2024 میں، سنسر بورڈ نے ایک اور ہارر فلم زندگی تماشا پر کفر ترویج کے الزام میں پابندی عائد کردی تھی، جسے بعد میں لاہور ہائیکورٹ نے ختم کردیا تھا۔

گھوسٹ اسکول، جس کی ہدایتکاری جامی نے کی ہے اور پروڈکشن سیکس سگما پلس نے کی ہے، ایک گروپ طلباء کی کہانی بیان کرتی ہے جو اپنے اسکول میں ماضی کے طلباء کے بھوتوں کا سامنا کرتے ہیں۔ فلم میں ہارر کے ساتھ ساتھ سماجی تنقید بھی کی گئی ہے، جو نوجوان ناظرین کوTarget بنانے والی پاکستانی سنیما کی ایک عام خصوصیت ہے۔

فلم سازوں کا موقف کیا ہے؟

فلم کے پروڈیوسروں نے پابندی کو ناانصافی اور سیاسی محرکات سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ قدامت پسند دباؤ گروپوں نے سنسر بورڈ پر اثر ڈالا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گھوسٹ اسکول ایک افسانوی کہانی ہے اور اس میں کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

"ہم سنسر بورڈ کے کردار کا احترام کرتے ہیں، لیکن ان کا فیصلہ شفافیت کا فقدان ہے،" پروڈکشن ٹیم کے ایک ترجمان نے کہا۔ "اگر یہ مذہبی جذبات کی حفاظت کے بارے میں ہے، تو پھر ایسے موضوعات پر مبنی دیگر فلموں کو کیوں اجازت دی جاتی ہے؟"

پاکستان میں فلموں پر پابندیاں کتنی عام ہیں؟

پاکستان میں فلم سنسرشپ ہمیشہ سے تنازعات کا شکار رہی ہے۔ 2018 سے 2025 کے درمیان، کم از کم 12 فلموں پر صوبائی یا وفاقی سنسر بورڈز نے پابندی عائد کی یا ان پر شدید کٹوتی کی۔ کچھ قابل ذکر مثالوں میں شامل ہیں:

  • لال کبوتر (2019) – پنجاب میں دہشت گردی مخالف مواد کے الزام میں پابندی۔
  • چڑیل (2020) – سندھ میں غیر اخلاقی مواد کے الزام میں پابندی، بعد میں کٹوتی کے بعد ریلیز۔
  • کہانی چڑیل کی (2023) – خیبر پختونخوا میں جادو ٹونے کی ترویج کے الزام میں پابندی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ سنسر بورڈز کے پاس اکثر مclear guidelines کا فقدان ہوتا ہے، جس سے غیرمستقل فیصلے سامنے آتے ہیں۔ 2025 میں، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو یکساں سنسرشپ کے قواعد بنانے کی ہدایت کی تھی، لیکن اب تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

اگر آپ گھوسٹ اسکول دیکھنا چاہتے ہیں تو کیا کریں؟

اگر سندھ فلم سنسر بورڈ پابندی ہٹاتا ہے، تو فلم چند ہفتوں میں سندھ کے سینما گھروں میں دکھائی جا سکتی ہے۔ اس وقت تک:

  • فلم کے سرکاری سوشل میڈیا پیجز (انسٹاگرام: @ghostschool.pk، ٹوئٹر: @GhostSchoolPK) پر اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔
  • مقامی سینما گھروں جیسے سائنپیکس، نیوپلیکس یا ایٹریم سے ریلیز کے اعلانات چیک کریں۔
  • اگر پابندی برقرار رہتی ہے، تو فلم ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسے سیپریم، ٹیپMad یا یوٹیوب پر تھئیٹر ریلیز میں تاخیر کے ساتھ ریلیز ہو سکتی ہے۔

اگلے کیا؟

  • 26 جون 2026 کو سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ گھوسٹ اسکول کی قسمت کا تعین کرے گا۔
  • اگر پابندی ختم ہوتی ہے، تو قومی ریلیز کا امکان ایک ماہ کے اندر ہو سکتا ہے۔
  • وفاقی سنسر بورڈ کے موقف پر بھی نظر رکھیں—اگر وہ سندھ کے حق میں آتا ہے، تو فلم کو مزید تاخیر کا سامنا ہو سکتا ہے۔

یہ کیس پاکستان کے تفریحی صنعت میں فن کی آزادی اور سنسرشپ کے درمیان جاری کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔ فلم سازوں کے لیے یہ ایک یاد دہانی ہے کہ افسانوی کہانیاں بھی ثقافتی اور مذہبیDebates کا میدان بن سکتی ہیں۔

کیا گھوسٹ اسکول کے بھوت آخر کار عدالت میں اپنی بات رکھ پائیں گے؟ وقت اور سندھ ہائیکورٹ کے اگلے حکم نامے ہی بتائیں گے۔