سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے جمعرات کو کراچی کے ہسپتالوں میں زیر علاج بچوں میں ایچ آئی وی وائرس منتقل ہونے کے معاملے پر ایک اعلیٰ سطحی اور بااختیار تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ عدالتی کارروائی ان رپورٹس کے بعد سامنے آئی ہے جن میں انکشاف ہوا تھا کہ ہسپتالوں میں طبی غفلت کے باعث معصوم بچے جان لیوا وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔
بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی تحقیقات
عدالت نے سندھ کے چیف سیکریٹری کو اس خصوصی کمیٹی کی سربراہی سونپی ہے تاکہ معاملے کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد یہ تعین کرنا ہے کہ کن ہسپتالوں میں اور کس کی غفلت سے بچوں کو ایچ آئی وی منتقل ہوا۔ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کریں۔
- فیصلہ: سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی کا قیام۔
- سربراہ: چیف سیکریٹری سندھ اس اعلیٰ سطحی کمیٹی کی قیادت کریں گے۔
- مقصد: ہسپتالوں میں بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی وجوہات کا تعین اور ذمہ داروں کا تعین۔
مریضوں اور والدین کے لیے ہدایات
کراچی کے شہریوں کے لیے یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے، تاہم عدالتی مداخلت کے بعد بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔ والدین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے علاج کے دوران ہسپتالوں میں صفائی کے معیار اور سرنجوں کے دوبارہ استعمال جیسے معاملات پر نظر رکھیں۔ اگر آپ کو کسی بھی ہسپتال میں طبی سہولیات کے حوالے سے شک ہو تو سندھ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے شکایتی سیل سے رابطہ کریں۔
آگے کیا ہوگا؟
عدالت نے اس معاملے پر سختی سے نوٹس لیا ہے اور توقع ہے کہ کمیٹی کی رپورٹ جلد پیش کی جائے گی۔ آپ کو چاہیے کہ اس معاملے پر آنے والی تازہ ترین پیش رفت پر نظر رکھیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں صوبے بھر کے ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے پروٹوکولز کو سخت کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے ہسپتالوں کے آڈٹ کا امکان بھی موجود ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔
