سندھ کے وزیر برائے لائیو سٹاک اینڈ فشریز محمد علی ملکانی نے کہا ہے کہ لائیو سٹاک ڈویلپمنٹ کے فروغ کے لیے جدید تولیدی ٹیکنالوجیز اور سائنسی طریقوں کو اپنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روایتی طریقے اب مویشی پال حضرات کی مالی ضروریات اور ملکی برآمدی مطالبات کو پورا کرنے کے قابل نہیں رہے۔ صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ ڈیئری اور گوشت کے کسان جدید ویٹرنری سائنس سے استفادہ کریں۔
پاکستان میں گینس، بھینسوں، بھیڑوں اور بکریوں کی بڑی تعداد موجود ہے، مگر فی جانور دودھ اور گوشت کی پیداوار بین الاقوامی معیار سے پیچھے ہے۔ ملکانی نے واضح کیا کہ خوراک اور بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے درمیان منافع بخش کاروبار کے لیے سائنس کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ یہ شعبہ زرعی جی ڈی پی میں بڑا حصہ ڈالتا ہے، اس لیے چھوٹے پیمانے پر بھی بہتری لانے سے دیہی خاندانوں کی معاشی حالت بہتر ہوسکتی ہے۔
روایتی طریقوں کی خامیاں
دہائیوں سے سندھ کے دیہی علاقوں میں کسان روایتی نسل کشی کے طریقے استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے جانوروں کی پیداواری صلاحیت کم رہ جاتی ہے۔ بیماریاں جلدی حملہ کرتی ہیں اور دو بچوں کی پیدائش کے درمیان طویل وقفہ آجاتا ہے۔
- بین الاقوامی ڈیئری نسلوں کے مقابلے میں فی دودھ چکر کم پیداوار
- جانوروں کے خشک رہنے کے طویل دورانیے
- کمزور قوتِ مدافعت کی وجہ سے موسمی بیماریوں کا شکار ہونا
- کم پیداوار والے جانوروں پر چارے کا ضیاع
ان مسائل سے نمٹنے کے لیے کنٹرولڈبریڈنگ اور مصنوعی بیج الخلیہ (آرٹیفیشل انسیমিনیشن) جیسے اقدامات سے بہترین نسل کے جانور کم وقت میں تیار کیے جا سکتے ہیں۔
جدید تولیدی ٹیکنالوجی کا نفاذ
محکمہ لائیو سٹاک کی کوشش ہے کہ مصنوعی بیج الخلیہ اور حمل کی جانچ کی سہولیات یونین کونسل کی سطح تک فراہم کی جائیں۔ ویٹرنری محکمے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقامی تکنیکی ماہرین کی تربیت کرے اور دیہی مراکز میں کولڈ چین کا نظام بہتر بنائے۔
کسان تصدیق شدہ بلز کا سیمن استعمال کر کے چند نسلوں میں اپنے جانوروں کا معیار بلند کر سکتے ہیں۔ ضلعی لائیو سٹاک دفاتر کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ موبائل ویٹرنری کیمپ لگائیں تاکہ کسانوں کو گھر کی دہلیز پر ویکسینیشن اور تولیدی صحت کی سہولیات مل سکیں۔
کسانوں کے لیے کرنے کے کام
اگر آپ سندھ میں ڈیئری فارم یا مویشی موٹا کرنے کا کاروبار چلاتے ہیں تو صرف حکومتی امداد کے انتظار میں نہ بیٹھیں بلکہ خود عملی اقدامات کریں۔
- اپنے قریبی ضلعی لائیو سٹاک آفس سے رابطہ کر کے مصنوعی بیج الخلیہ کی سہولت حاصل کریں۔
- اپنے ہر جانور کا ہیلتھ ریکارڈ رکھیں جس میں ویکسین اور خوراک کا حساب ہو۔
- سستے اور ناقص چارے کی بجائے متوازن فیڈ فارمولیشن پر توجہ دیں۔
- فارم کے مزدوروں کو بنیادی حفظانِ صحت اور جانوروں کی گرمی کی علامات سے آگاہ کریں۔
اگلا مرحلہ کیا ہوگا
آئندہ مالی سال میں موبائل ویٹرنری کلینکس اور سیمن ڈسٹ্রিبیوشن کے لیے رکھی جانے والی گرانٹس پر نظر رکھیں۔ اگر محکمہ لائیو سٹاک نے اپنے وعدے کے مطابق فیلڈ عملے کی توسیع کی تو دیہی کسانوں کو کافی سہولت مل جائے گی، بشرطیکہ سرخ فیتے کی روایت اور پرائیویٹ سیکھنے کے مہنگے دام اس میں رکاوٹ نہ بنیں۔
