صوبے بھر کے والدین اور اساتذہ کے لیے ایک اہم پیش رفت کے تحت سندھ حکومت نے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں ہفتے کی چھٹی بحال کر دی ہے۔ محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل اب پیر تا جمعہ صرف 5 دن تک محدود ہوگا۔ اس فیصلے سے اسکولوں میں ہفتہ وار دو چھٹیوں اتوار اور ہفتہ کا پرانا نظام بحال ہو گیا ہے جس سے طلباء اور تدریسی عملے کو بڑی راحت ملی ہے۔
تاہم نصاب کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے تدریسی اوقات میں روزانہ کی بنیاد پر ایک گھنٹے کا اضافہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیر سے جمعہ تک تمام طلبا و طالبات کو اسکول میں ایک گھنٹہ زیادہ گزارنا ہوگا تاکہ چھٹی کے دن کی کمی کو پورا کیا جا سکے اور تعلیمی سال کا نصاب وقت پر مکمل ہو سکے۔
نئے اسکول اوقات کار اور ان کے اثرات
محکمہ تعلیم سندھ کا یہ فیصلہ صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئے تدریسی اوقات کے مطابق اپنے روزمرہ کے نظام الاوقات کو فوری طور پر درست کریں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے متعلقہ اسکولوں سے رابطے کر کے نئے اوقاتِ کار کی حتمی تصدیق کر لیں تاکہ روزانہ کی آمد و رفت میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔
گرمی کے موسم اور طویل اسکول آورز کے پیش نظر والدین کو اپنے بچوں کی صحت اور تھکن کا بھی خاص خیال رکھنا ہوگا۔ اگرچہ دو دن کی چھٹی بحال ہونے سے بچوں کو آرام کا موقع ملے گا، تاہم روزانہ ایک گھنٹہ زیادہ پڑھنے سے بچوں کے روزمرہ کے معمولات جیسے کہ ٹیوشن اور ہوم ورک کے اوقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
والدین اور اسکول انتظامیہ کے لیے ہدایات
اگر آپ کا تعلق کراچی، حیدرآباد، سکھر یا سندھ کے کسی بھی شہر سے ہے اور آپ کے بچے اسکول جاتے ہیں، تو آپ کو درج ذیل امور پر فوری توجہ دینی چاہیے:
- اپنے بچوں کے اسکول سے نئے اوقات کار کا نوٹیفیکیشن لازمی حاصل کریں۔
- گھر کے شیڈول کو اسکول کے بڑھے ہوئے اوقات کے مطابق ڈھالیں تاکہ بچوں پر دباؤ نہ آئے۔
- اسکول انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اضافی ایک گھنٹے کا بھرپور تعلیمی استعمال ہو۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے مزید ہدایات اور باضابطہ نوٹیفیکیشنز کے لیے آپ سندھ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی سرکاری ویب سائٹ sindheducation.gov.pk وزٹ کر سکتے ہیں۔
آگے کیا توقع کی جائے؟
آنے والے دنوں میں ضلعی ایجوکیشن افسران اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا اسکول نئے تدریسی اوقات پر سختی سے عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔ یہ دیکھنا بھی اہم ہوگا کہ اسکول کے اوقات میں اضافے سے اساتذہ اور طلباء کی کارکردگی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے اس حوالے سے مزید مانیٹرنگ ٹیمیں بھی تشکیل دی جا سکتی ہیں۔
